بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم و متحرک مسلح تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف ) نے سال 2025 کی اپنی سالانہ مسلح کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی ہے جس کے تحت جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران بلوچستان بھر میں 581 مسلح کارروائیاں سرانجام دی گئیں، جن کے نتیجے میں647 اہلکار ہلاک اور 282 زخمی ہوئے ۔
سال بھر کی مسلح کارروائیوں میں تنظیم کے 42 جانباز ساتھی وطن کی دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوگئے۔
ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ جنوری تا دسمبر 2025 بلوچستان میں جاری قومی مزاحمتی جدوجہد کے حوالے سے ایک فیصلہ کن اور غیر معمولی سال ثابت ہوا۔ اس عرصے کے دوران مزاحمت نے محض وقتی یا ردِعمل کی سطح پر سرگرمیوں تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ ایک منظم، ہمہ جہت اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت تنظیمی کارروائیوں کو آگے بڑھایا۔
جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2025 کے دوران بلوچستان بھر میں بی ایل ایف کی جانب سے مجموعی طور پر 581 مسلح کارروائیاں انجام دی گئیں۔ ان کارروائیوں کا دائرہ ساحلی علاقوں، شہری مراکز، شاہراہوں، پہاڑی خطوں اور دور دراز علاقوں تک پھیلا رہا۔ یہ کارروائیاں ریاستی عسکری ڈھانچے، سیکیورٹی فورسز، نگرانی کے نظام اور معاشی مفادات کو نشانہ بنانے کی ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ تھیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں ریاستی فورسز اور ان سے وابستہ نیٹ ورکس کو نمایاں جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ سال کے دوران مجموعی طور پر 929دشمن کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا جس میں 647 اہلکار ہلاک ہوئے اور 282 زخمی ہو، ان ہلاکتوں میں پولیس، انٹیلیجنس نیٹ ورک، کوسٹ گارڈ، اسپیشل فورسز اور ڈیتھ اسکواڈ سے وابستہ افراد شامل تھے ۔ یہ ہلاکتیں مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں، گھات حملوں اور براہِ راست تصادم کا نتیجہ تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2025 کے دوران فوج اور ایف سی کے 282 اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کے 8 اہلکار ، پولیس کے 4 اہلکار، ڈیتھ اسکواڈ سے وابستہ 30 افراد اور کوسٹ گارڈ کے 10 اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔ یہ اعداد و شمار ریاستی فورسز پر مسلسل دباؤ اور شکست کی علامت ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ تنظیم نے ریاستی رِٹ سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ 33 سے زائد پولیس اور لیویز چوکیاں یا تھانے مختلف مواقع پر عارضی طور پر قبضے اور حملوں کی زد میں آئے، جبکہ 2 ایف سی چیک پوسٹس اور 5 کسٹم کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں تنظیم کے کنٹرول کے دعوؤں کے لیے ایک عملی ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم کارروائیوں کی نوعیت کی تفصیل درج ذیل ہیں سال کے دوران 36 گھات حملے، 33 دستی بم حملے، 13 آئی ای ڈی دھماکے اور 33 اسنائپر حملے انجام دیے گئے۔ اس کے علاوہ 7 انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں بھی کی گئیں۔ بھاری ہتھیاروں راکٹ اور ایل ایم جی سے 163 حملے کیے گئے اور چھوٹے ہتھیاروں سے مختلف مواقعوں پر 28 گرینیڈ لانچرز اور 33 دستی بم حملے کئے گئے ۔ تنظیم نے ایک بینک اور ایک پل کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2025 کے دوران 17 فوجی گاڑیاں تباہ یا ناکارہ بنائی گئیں، جن میں 2 بکتر بند گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ 15 سے زائد بلڈوزر اور تعمیراتی مشینری کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ 67 سے زائد گاڑیاں جو گیس، معدنیات اور فوجی راشن کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہی تھیں، تباہ کی گئیں۔ اس کے علاوہ پولیس کی 3 گاڑیاں، 6 ٹرک اور 4 ٹریکٹر ٹرالیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نگرانی اور اطلاعاتی نظام کے 26 جاسوسی ٹاورز تباہ کیے گئے، 15 سرویلنس کیمرے ناکارہ بنائے گئے اور 10 کواڈ کاپٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد ریاستی نگرانی، معلوماتی کنٹرول اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو کمزور کرنا تھا۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ سال 2025 کے دوران تنظیم نے محدود کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک آپریشنز بھی انجام دیے۔ ان آپریشنز میں آپریشن بام شامل ہے جس میں بلوچستان بھر میں فوج اور اس معاشی مفادات کو نشانہ بنایا گیا۔ سدو آپریشن بٹالین نے نوکنڈی میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مہلک حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ یہ کاروائیاں تنظیم کی طویل المدتی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہیں ۔ ان اسٹریٹجک آپریشنز کا مقصد محض فوری نقصان نہیں بلکہ مخصوص علاقوں میں ریاستی عسکری دباؤ، نقل و حرکت اور کنٹرول کو چیلنج کرنا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابلاغی اور نظریاتی محاذ میں تنظیم نے سال کے دوران اسپر میگزین کے 12 شمارے اور سرمچار میگزین کے 3 شمارے شائع کیے گئے، جنہیں تنظیم نے فکری، نظریاتی اور معلوماتی جدوجہد کا حصہ قرار دیا۔
آخر میں ترجمان نے کہا کہ جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران کیے جانے والے تمام کاروائیوں مزاحمتی جدوجہد کی شدت، وسعت اور تنظیمی ارتقا کو ظاہر کرتے ہیں۔ دو ہزار پچیس کا سال مستقبل کی حکمتِ عملی، تنظیمی فیصلوں اور مزاحمتی سمت کے تعین کے لیے ایک اہم حوالہ بنے گا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ نئے سال میں جدوجہد کو مختلف محاذوں پر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ ہے۔