متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعات کے تناظر میں یمن میں موجود اپنی افواج کے مشنز کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے اماراتی مسلح افواج نے سنہ 2019 میں طے شدہ فریم ورک کے تحت دیے گئے فرائض مکمل کرنے کے بعد یمن میں اپنی فوجی موجودگی ختم کر دی تھی اور اُس کے بعد سے اب تک یمن میں امارات کی موجودگی صرف انسدادِ دہشت گردی کے لیے مخصوص ٹیموں کی حد تک محدود تھی اور یہ ٹیمیں متعلقہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کر رہی تھیں۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق یمن میں حالیہ پیش رفت، اپنے اہلکاروں کی سلامتی اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی غرض سے یو اے ای یمن میں موجود اپنی انسدادِ دہشت گردی ٹیموں کو اپنی مرضی سے ختم کر رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام موجودہ تقاضوں کے جامع جائزے کے تحت کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے مبینہ ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا تھا کہ یو اے ای یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یمن سے اماراتی فوجیوں کو واپس بُلائے۔
سعودی وزرات خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا تھا جب سعودی سربراہی میں قائم اتحاد نے ’محدود فضائی کارروائی‘ کرتے ہوئے یمن کی مکلا بندرگاہ کو نشانہ بنایا جہاں سعودی عرب کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے بغیر اجازت ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اُتاری جا رہی تھیں۔
اماراتی وزارت دفاع کی جانب سے یہ فیصلہ آنے سے قبل سعودی عرب نے یو اے ای پر یمن کے معاملے پر الزامات عائد کیے تھے تاہم امارات نے ان الزامات کی پُرزور تردید کی تھی۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کو فوجی مدد فراہم کرنا یمن اور سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی میں متحدہ عرب امارات سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کا حامی ہے اور اس گروہ نے حالیہ دنوں میں یمن کے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ ادھر سعودی عرب ایس ٹی سی کی مخالفت کرتا ہے اور یمن میں قائم حکومت کا ساتھ دیتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے معاملے پر جاری بیان میں لگائے گئے الزامات کی پُرزور تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی بندرگاہ پر بھیجے گئے سامان میں کوئی اسلحہ شامل نہیں تھا اور جو گاڑیاں وہاں اُتاری گئیں وہ کسی یمنی فریق کے لیے نہیں بلکہ یمن میں موجود اماراتی افواج کے استعمال کے لیے بھیجی گئی تھیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اُن دعوؤں کی بھی سختی سے تردید کی گئی ہے جو سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان کی جانب سے کیے گئے ہیں اور جن میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای یمن میں تنازع کو ہوا دے رہا ہے۔ امارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ بیان رُکن ممالک (یو اے ای) سے مشاورت کے بغیر جاری کیا گیا ہے۔