سرکاری رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2025 میں شہریوں، پولیس اور ایف سی سمیت سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہواہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 202 اہلکاروں اور 280 افراد کو خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا گیا۔
رواں سال 11 مارچ کو بولان کے علاقے میں جعفرایکسپریس پر حملہ اور مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔ جس میں26 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 35 سے زائد زخمی ہوئے۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران کوئٹہ پنجاب اور کراچی شاہراہوں پر بدامنی کے تین بڑے واقعات بھی ہوئے۔ 18 فروری کو کوئٹہ سے پنجاب جانے والی مسافر کوچ کو بارکھان کے علاقے رڑکن میں شناخت کے بعد 7 مسافروں کو قتل کردیاگیا۔
10 جولائی کو ڑوب کے علاقے سرہ ڈھاکہ میں مسافرکوچ سے اتار کر 9 مسافروں کو قتل کیا گیا۔
رواں سال 16 جولائی کو کوئٹہ کراچی پر قلات کے علاقے نیمرغ میں صابری قوال گروپ کی کوچ پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں باپ بیٹا سمیت تین قوال ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق رواں برس بلوچستان بھر میں 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 707 عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے متعدد مبینہ آپریشنز میں سینکڑوں عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے لیکن ان کی لاشیں سامنے نہیں لائی جس سے جبری لاپتہ افراد لواحقین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ممکن ہے کہ فورسز کی جانب سے مارے گئے 707 افراد لاپتہ افراد ہونگے جنہیں کل اینڈ ڈمپ کے پالیسی کے تحت سامنے نہیں لایا جارہا ہے۔