سندھ حکومت کا بی ایل اے پر بلوچ لڑکی کو فدائی بمبار بنانے کے لیے ذہن سازی کا الزام

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے بلوچستان کی آزادی کے لئے سرگرم ومتحرک مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکی کو ورغلا کر فدائی بمبار بنانے کے لیے ذہن سازی کا الزام عائد کیا ہے۔

کراچی پولیس نے ایک کم عمر بلوچ لڑکی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس کی فدائی بمبار بننے کے لیے ذہن سازی کی تھی۔

کراچی میں سندھ کے وزیر ضیاالحسن لنجار اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی آزاد خان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ لڑکی کے والد سرکاری ملازم تھے جو فوت ہو گئے ہیں، ایک بھائی پولیس میں ملازم ہے جبکہ دوسرا سول ملازم ہے۔ حکام نے لڑکی اور اس کے خاندان کی شناخت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ اسے خفیہ رکھا گیا ہے۔

تاہم 22 نومبر 2025 کی شب تقریباً 12 بجے پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے بلوچستان کے حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل میں ایک گھر پر چھاپہ مارا ، اور 15 سالہ لڑکی نسرین دختر دلاور بلوچ ساکن تیرتیج آواران کو زبردستی حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا جو تاحال لاپتہ ہیں۔اور ممکنہ طور پر سندھ کے حکام مذکورہ لڑکی کا حوالہ دے رہے ہیں۔تاہم اس کی باقائدہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ پریس کانفرنس میں جس لڑکی کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ نسرین بلوچ ہیں۔

آزاد خان کا دعویٰ ہے کہ لڑکی موبائل فون پر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام استعمال کرتی تھی۔ انسٹاگرام پر اس کا رابطہ ایک ہینڈلر سے ہوا جس نے اسے کچھ تقاریر اور مواد بھیجا اور آہستہ آہستہ اس کی گفتگو کو ریاست مخالف بیانیے کی طرف موڑ دیا۔

بعد ازاں اسے واٹس ایپ کے ایک کلوز گروپ میں شامل کیا گیا جہاں عسکریت پسندی کی سرگرمیوں کو بہادری اور قربانی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

سی ٹی ڈی کے سربراہ کے دعوے کے مطابق ایک مرحلے پر ہینڈلر نے لڑکی کو عملی طور پر فدائی حملے کی ترغیب دی۔ خوف اور لالچ کے ذریعے اس کی ذہن سازی کی گئی اور اس نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اسکول جانے کا بہانہ بنا کر وہ عام کپڑوں میں کراچی جانے والی بس میں سوار ہوئی۔

ان کے مطابق وہ کراچی سے دور ایک مقام پر اتری جہاں ایک خاتون اسے لینے آئی اور اپنے گھر لے گئی۔ وہاں کئی دن مزید اس کی ذہن سازی کی گئی اور پھر دوبارہ کراچی روانہ کیا گیا، یہ کہہ کر کہ ایک اور ایجنٹ اسے فدائی جیکٹ اور ہدف تک پہنچائے گا۔

سی ٹی ڈی کے سربراہ کے دعوے کے مطابق کراچی میں مقررہ مقام پر ہینڈلر سے رابطہ نہ ہو سکا اور اسی دوران پولیس ناکے پر چیکنگ ہوئی۔ شناخت اور پتہ پوچھنے پر وہ درست جواب نہ دے سکی جس پر اسے تحویل میں لیا گیا۔

پولیس کے مطابق ’ڈی بریفنگ‘ کے دوران اس لڑکی نے بتایا کہ کس طرح اسے ورغلایا گیا۔ لڑکی کی کم عمری کے باعث فوری طور پر اس کے خاندان کو طلب کیا گیا اور والدہ کے ساتھ رکھا گیا۔

پریس کانفرنس کے دوران لڑکی اور اس کی والدہ کو بھی لایا گیا اور ان کے ویڈیو بیانات چلائے گئے۔ ویڈیو میں لڑکی نے بتایا کہ اسے پڑھنا پسند تھا اور وہ ٹیچر بننا چاہتی تھی۔ ایک دن اس نے سوشل میڈیا پر شاری بلوچ (کراچی یونیورسٹی میں فدائی حملہ کرنے والی خاتون) کی ویڈیوز دیکھیں اور حیران ہوئی کہ ایک پڑھی لکھی عورت جس کے بچے بھی ہیں ایسا کیسے کر سکتی ہے۔ تجسس میں اس نے مزید ویڈیوز دیکھنا شروع کر دیں۔

اسی دوران انسٹاگرام پر ایک شخص سے بات ہونے لگی جو ماہ رنگ اور بشیر زیب کا ذکر کرتا تھا۔ اس نے ایک کتاب بھیجی جسے لڑکی نے کئی بار پڑھا اور اسے لگا کہ یہ سچ ہے۔ بعد ازاں اسے واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا گیا جہاں بی ایل اے کے کاموں کو دکھایا جاتا تھا اور خواتین کو فدائی حملوں کے لیے ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔

ویڈیو بیان میں لڑکی نے کہا کہ آہستہ آہستہ پڑھائی سے اس کا دل اٹھ گیا، امتحانات میں نمبر کم آنے لگے اور وہ دن بھر شاری بلوچ جیسا کام کرنے کے بارے میں سوچتی تھی۔ اس نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور ٹی پارٹی کا بہانہ بنا کر وندر اتری جہاں ایک خاتون نے اسے اپنے گھر لے جا کر مزید ذہن سازی کی۔

اس خاتون نے شاری بلوچ اور سمیعہ قلندرانی (تربت میں فدائی حملہ کرنے والی لڑکی) کے قصے سنائے اور کہا کہ وہ بلوچ کے لیے بڑا کام کرنے جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں اپنی غیر انسانی جبری گمشدگی کی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے خواتین کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ حالیہ دنوں میں حب چوکی سے 3 خواتین جن میں ایک کمسن لڑکی نسرین بلوچ،ایک حاملہ خاتون حیر نسااور ہانی بلوچ شامل ہیں کو پاکستانی فورسز نے گھر میں گھس کر جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنایا تھا جو ہنوز لاپتہ ہیں ۔جن میں ایک کا تعلق آواران اور دو کا تعلق تجابان ضلع کیچ سے ہے ۔

تربت میں حیر نسا اور ہانی بلوچ کی بازیابی کے لئے اہلخانہ نے گذشتہ 3 دنوں سے سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیکر اسے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کیا تھا لیکن انتظامیہ کی یقین دہانی پر دھرنا موخر کردیا گیا ہے۔مذکورہ دونوں خواتین کے ساتھ اسی فیملی کے 2 نوجوان بھی لاپتہ کئے گئے ہیں۔

اس سے قبل 29 مئی 2025 کوکوئٹہ سے مہ جبین بلوچ نامی ایک معذور لڑکی کو جبری لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔

بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کی پاکستانی فوج کی نئی پالیسی کو سیاسی و سماجی تنظیموں نے شدید تشویشناک قرار دیا ہے ۔ جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس سلسلے میں مہم شروع کی ہے جو جاری ہے ۔جس کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کو شدید دبائو کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

سیاسی و سماجی حلقے حکومت سندھ کی حالیہ پریس کانفرنس کا مقصد اسی عالمی دبائوکو زائل کرنے اور صورتحال کا رخ موڈنے کا ایک اقدام قرار دے رہےہیں ۔

Share This Article