میانمار میں الیکشن کا آغاز، ملک کے نصف حصے میں ووٹنگ نہ ہونے کی توقع

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

میانمار میں اتوار کو سخت پابندیوں کے دوران ووٹنگ شروع ہوئی، لیکن پولنگ مراکز تک پہنچنے والے ووٹرز کی تعداد نہایت کم رہی۔

میانمار میں انتخابات کا آغاز تو ہو گیا ہے تاہم بڑی سیاسی جماعتیں تحلیل کر دی گئی ہیں، ان کے کئی رہنما جیل میں ہیں اور جاری خانہ جنگی کے باعث ملک کے تقریباً نصف حصے میں ووٹنگ نہ ہونے کی توقع ہے۔

فوجی حکومت تقریباً پانچ سال بعد جب اس نے بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا تھا مرحلہ وار ووٹنگ کرا رہی ہے۔ اس بغاوت نے وسیع پیمانے پر مخالفت کو جنم دیا اور خانہ جنگی میں شدت پیدا کی۔

ایک نئے قانون کے تحت انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے یا مخالفت کرنے پر 200 سے زائد افراد پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں جن میں سخت سزائیں شامل ہیں حتیٰ کہ سزائے موت بھی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں، مغربی ممالک کے سفارتکاروں اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے ایک ماہ تک جاری رہنے والے اس انتخاب پر سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی عمل فوجی حامیوں کے حق میں تیار کیا گیا ہے اور اختلافِ رائے پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فوجی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے کی توقع ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فوجی حکومت کو نئے نام کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش ہے۔

تقریباً پانچ کروڑ آبادی والا جنوب مشرقی ایشیا کا یہ ملک طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار ہے جہاں باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ووٹنگ نہیں ہو رہی۔

فوجی حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں تین مراحل میں ہونے والی ووٹنگ کا پہلا دور مقامی وقت کے مطابق آج صبح چھ بجے شروع ہوا۔ میانمار میں عام انتخابات کے لیے دوسرا مرحلہ 11 جنوری کو اور تیسرا مرحلہ 25 جنوری کو ہوگا۔

Share This Article