واحد قمبر کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل،اگر انہیں کچھ ہوا توذمہ دار ریاست اورحجز ہونگے،صاحبزادی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری بلوچ قومی رہنما استادواحد قمبر بلوچ کی صاحبزادی شاری قمبر نے کہا ہے کہ میرے والد کے اغوا کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ میرے والد کو ریاستِ پاکستان اور اس کے انٹیلی جنس اداروں نے حراست میں لیا ہے، تاہم متعلقہ ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں کہ میرے والد واحد کمبر ان کی تحویل میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر میرے والد کسی جرم کے مرتکب ہیں تو ریاست کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ انہیں فوری طور پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو سکے۔ کسی شہری کو بغیر الزام، بغیر مقدمہ اور بغیر عدالتی پیشی کے لاپتہ رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین،اور آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح میرے والد کے کیس کو مسلسل لٹکانا، ہر سماعت پر نیا بہانہ بنا کر تاریخ پر تاریخ دینا، انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ ہم انصاف چاہتے ہیں، تاخیری حربے نہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنے آئینی فرائض ادا کرے، میرے والد کو منظرِ عام پر لائے اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرے۔

شاری قمبر نے کہا کہ میرے والد بوڑھے اور بیمار ہیں ہمیں انکی صحت اور سلامتی کے حوالے سے بہت پریشانی ہیں ۔ اگر میرے والد کو کچھ بھی ہوا اسکا ذمہ دار ریاست اور بلوچستان ہائی کورٹ کے وہ جسٹس صاحبان ہیں جنہوں نے میرے والد کے کیس کو لٹکانا اور ایجنسیوں کو بلانے اُن سے سوال کرنے کے بجائے مجھ سے سوالات کیے اور مجھے کہاکہ آپ کو ایران جانا چائیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے والد کو پہلے بھی 2007میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اغوا کیا ۔ اغوا کے بعد نو ماہ تک وہ لاپتہ رہے، اس کے بعد انہیں اے ٹی ایف پولیس کے حوالے کیا گیا۔ میرے والد نے جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا اور باعزت طور پر بری ہو کر رہا ہوئے۔ میرے والد ہر وقت قانون کے مطابق مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں۔

Share This Article