شہیدچیئرمین غلام محمد بلوچ -تحریر: محمد یوسف بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
24 Min Read


قائد انقلاب شہید غلام محمد بلوچ کی سوانح عمری اور سیاسی بصیرت کا ایک طائرانہ جائزہ
(…..ایک قسط وار سلسلہ…..) قسط۔14
تحریر: محمد یوسف بلوچ پیش کردہ : زرمبش پبلی کیشن

”سوانح حیات قائدِ انقلاب شہید چیئر مین غلام محمد بلوچ “بلوچستان کے جہد آزادی کے عظیم رہنما شہید چیئر مین غلام محمد بلوچکی سوانح عمری، جدجہد،فکرو نظریات اورسیاسی بصیرت پر مبنی یہ ایک تاریخی و دستاویزی کتاب ہے جسے ان کے بھائی محمد یوسف بلوچ نے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب بلوچ جدو جہد آزادی کے کاروان میں شامل افراد کیلئے معلومات و دلسچپی کا ایک بہتر ذریعہ ہے ۔ ہم بلوچ قومی تحریک آزادی کے جہد کاروں سمیت بلوچ حلقوں کیلئے اس کتاب کو قسط وار شائع کرنے کا اہتمام کررہے ہیں تاکہ وہ شہید چیئرمین غلام محمد بلوچ کی سیاسی بصیرت، فکرو نظریہ اور تجربت سے استفادہ کرسکیں۔ یہ کتاب ہم ”زرمبش پبلی کیشن“کی شکریہ کے سا تھ شاع کر رہے ہیں۔(ادارہ سنگر)

باب پنجم
(شہادت اور شہادت کے بعد کے واقعات)

واقعہ مرگاپ:۔
آپ شہید21مارچ2009ء کو پارٹی امور کے سلسلے میں کراچی چلے گئے اس کے بعد 27 مارچ کو یومِ سیاہ کی مناسبت سے پسنی میں ہماری آخری ملاقات ہوئی۔پسنی جلسہ آپ کی زندگی کا الوداعی جلسہ تھا اس جلسے میں آپ نے اپنے خطاب کے دوران بلوچستان کی تاریخ پہ تفصیلی روشنی ڈالی۔جس میں آپ نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد کی ریاست کوجہاں بلوچ قوم ہزاروں سالوں آباد ہے اس پہ1839ء میں انگریز محراب خان کو شہید کرنے کے بعد بڑی حد تک اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے بعد انگریزوں کے یہ سیاہ مہرے جو ہندوستان میں انگریزوں کی دلالی پہ معمور تھے،جہاں ان کا کام نوآبادکاروں کے لیے دلالی کرنا تھا جس کے بدلے انگریزوں نے پہلے پہل انہیں جاگیریں دینا شروع کیا اور جاتے جاتے قبضہ گیر نے اپنے لیے ایک کالونی بنانے کی ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے پاکستان جیسا غیر فطری ریاست وجود میں آگیا۔انگریزوں کا کام ابھی ختم نہیں ہوا تھا کیونکہ انہیں پھر سے یہاں آنا تھا اور اس کے لیے ہماری سرزمین کی جغرافیائی اہمیت سے تووہ پہلے ہی آگاہ تھے لیکن ان دنوں بلوچستان کے معدنیات بھی ظاہر ہونا شروع ہوچکے تھے لہذا اس دولت کو لوٹنے کے لیے گوروں نے اپنے سیاہ غلاموں کو بلوچستان پہ قبضہ کرنے کے لیے اکسایا جس کی وجہ سے ہماری سرزمین آٹھ ماہ کی آزادی کے بعد پھر سے غیروں کے قبضے میں چلاگیا۔ اس قبضے کے خلاف بلوچ قوم نے روز اول سے جدوجہد شروع کی جہاں سب سے پہلے مکران کے گورنر آغا عبدلکریم نے پاکستان کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا جوکبھی نوروز خان کی شکل میں ہمیں نظرآتا ہے تو کبھی علی محمد مینگل اور نواب خیر بخش مری اور شیرومری کی صورت میں اوراس غیر فطری ریاست کے خلاف آزادی کی یہ جنگ آج تک جاری ہے۔
بلوچوں کی اس ساٹھ سالہ جدوجہد میں بڑے نشیب و فراز آئے جس کی وجہ سے جدوجہد کا سلسلہ ٹوٹتا رہا لیکن اکیسوی صدی کی یہ جدوجہد جدید تقاضوں سے مکمل ہم آہنگ ہے اور اگر ہم اسی مستقل مزاجی اور پارٹی اداروں کی مضبوطی کی جانب بڑھتے رہیں تو مجھے کامل یقین ہے کہ ہمیں آزادی کا سورج دیکھنے سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتا۔
جلسے کے اگلے دن آپ (شہید غلام محمد بلوچ)28مارچ کو پسنی سے کراچی چلے گئے۔جہاں نواب خیربخش مری اوراقوام متحدہ کے وفد کے ساتھ جان سولیکی کیس کے حوالے سے میٹنگ تھی۔اس میٹنگ میں آپ چیئرمین نے جان سولیکی کی رہائی کے حوالے سے تعاون کا یقین دلایا لیکن ساتھ ساتھ مسئلہ بلوچستان اوربلوچ قوم پہ ہونے والے پاکستانی مظالم پہ تفصیلی روشنی ڈالنے کے ساتھ عالمی دنیا کی خاموشی کو ان کی مجرمانہ غفلت سے تعبیر کیا۔
جان سولیکی کا مسئلہ ہویا بلوچستان کے دیگر سیاسی مسائل یا پاکستان کاجابرانہ کردار،ان تمام مسائل کو اجاگر کرنے میں آپ نے نیایت اہم کردار ادا کیا۔آپ کا متحرک انداز جہاں آپ کبھی میڈیا کی توسط سے بلوچ مسئلے پہ بات کرتے اور کبھی عوامی ا جتماعات سے خطاب کرتے۔آپ کے اس انداز فکر نے ریاست اور اس کے حواریوں کو آپ کو راستے سے ہٹانے کی مزید ترغیب دی اور اب وہ یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ غلام محمدبلوچ کو راستے سے ہٹانے میں ہی ان(قابض) کی بقاء وابسطہ ہے کیونکہ انہیں اس بات کا ادراک تھا جہاں وہ حالات کا رخ دیکھ چکے تھے کہ اگرغلام محمد بلوچ مزید کچھ عرصہ اس تحریک سے وابسطہ رہا تو بلوچوں کوآزادی حاصل کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
3 اپریل2009ء بلوچ تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت سے رکھتاہے جہاں قابض ریاست اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے تین عظیم ہستیوں کو جبری طور پرلاپتہ کرتا ہے۔اسی دن مجھے بھی تربت پہنچنا تھا جہاں 4 اپریل 2009ء کو انسداد دہشت گردی کے ریاستی عدالت میں میری پیشی تھی لیکن میں اس دن پہنچ نہیں پایا اسے میری بدبختی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ میں ان عظیم ہستیوں کی ہمراہی سے محروم رہا۔
3 اپریل کے دن جب شہیدغلام محمد بلوچ،شہید لالا منیر بلوچ اور شہید شیر محمد بلوچ عدالت میں ایک پیشی سے جان نپٹا کر دوسری پیشی کا انتظار کرنے کے لیے کچکول علی ایڈوکیٹ کے دفتر میں انتظار کررہے تھے کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس ریاستی اداروں کے اہلکار وں نے کچکول صاحب کے دفتر پہ دھاوا بول دیا۔دفتر میں توڑ پھوڑ اور آپ شہید غلام محمد بلوچ اور آپ کے ہمراؤں کو زد و کوب کرنے کے بعد آنکھوں پہ سیاہ پٹیا ں اور ہاتھ پاؤں باندھ کر گھسیٹتے ہوئے اپنی گاڑیوں میں ڈال کے لے گئے۔
واقع کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی میں اس وقت مند میں واقع اپنے گھرمیں موجود تھا جہاں مجھے شہید آصف جان نے فون پر اس واقعہ کی اطلاع دی۔اطلاع ملتے ہی میں تربت چلاگیااور شہید آصف جان جو کہ تربت میں موجود تھے واقعہ کی مکمل تفصیلات معلوم کرلی۔وہاں موجود وکیلوں اور دیگر چشم دید گواہوں نے اس واقعے کو یوں بیان کیا کہ آپ چیئرمین اپنے ساتھیوں کے ساتھ جب صبح سات (7)بجے تربت میں انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچ کر پہلی پیشی ختم کرکے دوسری پیشی کے انتظار میں اپنے وکیل کچکول علی ایڈوکیٹ کے چمبر میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران کچکول صاحب کے دفتر کوسادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے محاصرے میں لے لیا۔اس دوران آپ شہید چیئرمین فون پہ بات کررہے تھے۔بقول شہید آصف جان کہ کاکا(شہید غلام محمدبلوچ) مجھ سے فون پہ گفتگو کررہے تھے اور مجھے وہاں آنے کا کہہ رہے تھے لیکن پھر اچانک کچھ شور سنائی دیا اور کاکا نے مجھے آنے سے منع کردیا شاید وہ خطرہ محسوس کرچکا تھا۔گواہوں کا مزید یہ کہنا تھا کہ جب سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ اور شہید غلام محمد بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو زد و کوب کرنا شروع کیا تو آپ چیئرمین نے ان سے وجہ دریافت کی مگروہ آپ تینوں رہمناؤں کو گھسیٹ گھسیٹ کر دفتر کے باہر کھڑی میں اپنی گاڑیوں میں پٹخ دیا۔

شہید آصف جان اور وکلا حضرات نے فوراً آپ چیئرمین اور ساتھیوں کاریاستی خفیہ اداروں آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف سی کے مسلح اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور اغواہ کے خلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ اور بعد میں پارٹی کے دوستوں کے ساتھ مل کر آپ شہید چیئرمین اور ساتھیوں کے اغواہ اور گرفتاری کے خلاف کراچی سمیت پورے بلوچستان میں عوامی احتجاج کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا۔احتجاج جاری تھا کہ8 اپریل کی صبح یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ آپ شہید چیئرمین اور آپ کے ساتھی کوئٹہ سے بازیاب

ہوگئے ہیں۔پارٹی دوستوں سے تفصیلات جاننے کے لیے میں نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک جھوٹی افواہ ہے۔اسی رات گوادر سے یہ افواہ شروع ہوئی کہ شہید غلام محمد بلوچ اور اس کے ساتھیوں کو ریاستی فورسز نے شہید کردیا ہے۔ شہید آصف فوراً حرکت میں آگئے اور اس نے پارٹی کے دوستوں اور گوادر اور تربت ہسپتال اور پولیس تھانوں میں فون کرکے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کہیں سے اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو پارہی تھی۔
یہ افواہ رات گئے تک گردش کرتی رہی جس کی وجہ سے رات2 بجے شہید آصف جان چند دوستوں کو لے کرتربت ہسپتال پہنچ گیا اور وہاں موجود ڈاکٹروں سے معلومات حاصل کرنے لگی۔ڈاکٹروں نے کہا کہ مرگاپ کے علاقے میں تین مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں لیکن یہ معلوم نہیں کہ کیسی اور کن کی لاشیں ہیں۔تربت انتظامیہ اور کچھ ڈاکٹر حضرات ان کو دیکھنے گئے ہیں لیکن اب تک واپس نہیں آئے اور نہ کوئی تفصیل سامنے آرہا ہے کہ ماجرہ اور حقائق ہیں کیا؟ان کے آنے سے ہی حقیقت سامنے آسکتی ہے۔ یہ خبر سنتے ہی آصف جان دوستوں کے ساتھ ہسپتال میں انتظار کرتا رہا۔
جب صبح چار(4) بجے ڈاکٹر تاج جو اس وقت کے ڈی ایچ او تھے نے فون کرکے آصف بلوچ سے کہا کہ آصف جان کہاں ہو ہمیں لاشیں ملی ہیں آپ جلدی تعلیم چوک پہنچ جائیں۔ تو آصف جان،دوستوں کے ہمراہ فوراً وہاں پہنچ گیا۔تو ڈاکٹر تاج بلوچ نے آصف جان کو گلے لگاتے ہوئے بلوچ قومی تحریک کے سرخیل رہنماؤں شہید غلام محمد بلوچ، شہید لالا منیر بلوچ اور شہید شیر محمد بلوچ کی شہادت کی اطلاع دی اور شہید آصف بلوچ کو شہیدوں کی زیارت کرائی جو اس وقت انتظامیہ کے قبضے میں تھے۔شہید آصف بلوچ نے انتظامیہ سے شہداء کی جسد خاکی اپنے ہاتھ لے لیا اور شہید لالامنیر بلوچ کو دوستوں اور رشتہ داروں کی خواہش کے مطابق شہید کے آبائی علاقہ پنجگور روانہ کیا اور اپنے کاکا (شہید غلام محمد بلوچ) اور شہید شیر محمد بلوچ کی مبارک میتیں لے کے آبائی علاقہ مند سورو لے آیا۔راستے میں ہی انہوں نے مجھے فون پہ اطلاع دی کہ” کاکا ” اور اس کے ساتھیوں کو درندوں نے ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا کرلیااوراب میں شہید کاکا اور شہید شیر محمد بلوچ کی مبارک میتیں لارہا ہوں۔
بالآخر قبضہ گیر ریاست نے اپنے اس گھناؤنے عمل کوپایا تکمیل تک پہنچایا جس کا اعلان قبضہ گیر ریاست کے آئی جی ایف سی میجر جنرل سلیم نوازکا چند روز پہلے والابیان کہ بیک چینل ڈپلو میسی جاری ہے جو 3 اپریل 2009ء کو چیئرمین غلام محمد،لالہ منیراور شیرمحمد کی اغوا نماگرفتاری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اسی رات نیند کے عالم میں شہید غلام محمد بلوچ کو میں نے گنگناتے سنا۔۔۔وہ گنگنارہے تھے کہ۔۔۔
من ہما کندیل ءِ پیما روژن پالینتگ وتی
بالوانی چاگردءَ راہ ءَ سازینتگ وتی
یہ یقیناً شہادت کی بشارت تھی جو میں خواب میں دیکھ رہا تھا۔
جب شہداء کے جسد خاکی مندپہنچ گئے تو پورا مند آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔حالانکہ جب مجھے شہید آصف جان نے میرے عظیم قائد کی شہادت کی اطلاع دی تو میں سوچ میں پڑگیا کہ اب کیا ہوگا اس تحریک کا جس کی رہنمائی غلام محمد بلوچ جیسا عظیم ہستی کررہا تھا؟ کیا غلام محمد بلوچ کے بغیر اب یہ تحریک منزل پہ پہنچ سکتی ہے؟ کیا آپ کا کوئی نعم البدل بھی ہے جو اس قوم کو اس کی منزل پہ پہنچا سکے۔؟ میں انہی خیالوں میں گم تھا کہ شہید آصف جان شہداء کو لے کے پہنچ گیا۔اسی دوران جب میں نے عوام کا جوش و خروش دیکھا تو مجھے شہید کی وہ باتیں جو اکثر کیا کرتے تھے یاد آئے۔۔۔کہ” دنیا کی کوئی تحریک کسی فرد کے جانے سے زوال پذیر نہیں ہوتا، بلکہ اگر کوئی تحریک مضبوط اداروں کی شکل می موجود ہو تو پھر وہاں کسی رہنماء کے جانے کے بعد اس میں مزید شدت دیکھنے کو ملے گی کیونکہ اداروں کی مضبوطی سے قائدین کی قحط نہیں پڑتی بلکہ قوم کی رہنمائی کے لیے قائدین کی ایک لمبی قطار لگی ہوتی ہے وہ قطار بھی ایسا جہاں لوگ انا کے خول کو توڑ کے جدت کی جانب مائل ہوتے ہیں جہاں کوئی کسی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ قوم کی بقاء کے لیے یکجہتی کا ایسا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے جسکا تصور تک نہیں کیاجاسکتا۔”
شہید کی ان باتوں کو ایک دو بار دہرانے کے بعد مجھ میں ایسا حوصلہ پیدا ہوا جسے میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔
پورا مند آزادی کے نعروں سے گونج رہا تھا انہی نعروں کی گونج میں شہداء کی میتیں گھرمیں پہنچائی گئی۔شہید غلام محمدبلوچ اور شہید شیرمحمدبلوچ کی جسد خاکی جب میں نے دیکھا تو وہ گولیوں سے چلنی اور دونوں شہداء کے جسم مبارک پہ وحشیانہ تشدد کے نشانات تھے۔جنہیں دیکھ کر میں نے یہ اندازہ لگا لیا کہ قابض ریاست نے کس بربریت اور غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ شہداء کے جسد خاکی دیکھ کر یہ یقین ہوچلا کہ انہیں 3 اپریل کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کے شہید کیا گیا تھا۔
ہم سب کے حوصلے اس وقت مزید بلند ہوگئے جب ماں نے شہدا ء کی مسخ شدہ لاشیں دیکھ کر یہ کہا کہ ”غلام محمد تم نے دھرتی کا قرض اداکردیا کاش کہ میرے سو بیٹے اور ہوتے جنہیں میں اس عظیم فرض کی خاطر قربان کرتی۔ میرے لال تجھے اور تیرے ان عظیم ساتھیوں کو تیری ماں سلام کرتی ہے۔میری دعا ہے اور سب دعا کرنا کہ شہادت کا یہ رتبہ یوسف کے حصے میں بھی آئے تاکہ میرا سر فخر سے مزید بلند ہو جائے۔آج میں خود کو انتہائی خوش نصیب تصور کرتی ہوں جہاں میرے لال نے مادر وطن کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دے کے ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا اور اپنی قربانی سے بلوچ قوم کے نام کو سرخرو کرگیا۔قابض ریاست شاید یہ سمجھتی ہے کہ غلام محمد کے جانے سے یہ تحریک ختم ہوگی تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ بلوچ مائیں ابھی بھانج نہیں ہوئی ہیں۔ایک غلام محمد کی شہادت سے ہزاروں غلام محمد جنم لینگے یہ ایک ماں کا یقین
ہے۔”
پارٹی قائد شہید غلام محمد بلوچ اور ساتھیوں کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی لوگ جو ک در جوک مند کا رخ کرنے لگے عوام کا اس قدر جم غفیر مند شہر کے لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا اور نہ پھر کسی کو دیکھنا نصیب ہوگا۔اسی شام شہداء کو مند سورو کے قبرستا ن میں مادر وطن بلوچستان کے سینے میں محفوظ کرلیا گیا۔

شہادت کے بعد:۔


قوم اور وطن کے شہداء اپنے لہو سے سرزمین کو ایسے سیراب کرتے ہیں جس سے تحریک کی ایسی آبیاری ہوتی ہے جو منزل پہ پہنچے بنا دم نہیں لیتی۔شہید غلام محمدبلوچ اوراس کے ہمنواؤں نے بھی اپنے لہو سے ایسے کونپلوں کو جنم دیا ہے جن کی مہک ہم آج ہر سو محسوس کرسکتے
ہیں۔ چیئرمین شہید غلام محمد کی شہادت کے بعد پیش آنے والے واقعات کو دیکھیں جن کا تسلسل آج تک نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں آئے روز شدت آرہی ہے۔یہ آپ شہید چیئرمین اور ہزاروں شہداء کی قربانیوں کی وجہ سے ممکن ہوا جہاں آج بلوچ قوم کامیابی سے اپنی منزل کی جانب رواں ہے۔
جب بلوچ قوم کومرگاپ سانحہ کی اطلاع ملی تو پارٹی کارکنوں اور بلوچ عوام نے اس کے ردِ عمل میں بلوچستان سمیت کراچی میں ریاستی تنصیبات اور دفاتر کو جلاکر خاکستر بنا دیا۔ چیئرمین غلام محمد کی شہادت نے تحریک آزادی کوایک اہم موڑ پہ لے آیا جہاں بلوچ عوام نے شعوری بنیادوں پہ نوآبا دیاتی نظام، آبادکار اور پاکستان کی ہر نشانی جو بلوچ سرزمین پر انہیں نظر آیا اس کو مٹانے اور سبوتاژ کرنے پر تل گئے۔شہادت کے بعد بھی قریباً ایک مہینے تک کراچی کے بعض علاقوں اور پورے بلوچستان میں احتجاج، جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری رہا۔شدید عوامی ردِ عمل نے ریاست اور ریاست کے حواریوں کی آنکھیں کھول دی کہ بلوچ سماج میں جدوجہد میں جدت،تیزی،جوش اور ولولہ فقط کسی قبائلی سردار کے لیے نہیں ہوتابلکہ قوم کردار دیکھ کر فیصلہ کرنے کے قابل بن چکا ہے اور بلوچ قوم کا یہی عمل نوآبادیاتی نظام اور اس نظام کو طول دینے والے قابض کے حواریوں کاموت کے مترادف ہے جس کا ادراک ہونے بھی ہوچکا ہے اسی لیے قابض کے یہ حواری آج تک براہ راست بلوچ نسل کشی میں ملوث ہیں۔
شہید غلام محمد بلوچ کی شہادت نے عوام میں آزادی کی ایسی امنگ پیدا کردی کہ27 اپریل کو بچوں اور خواتین نے ہز اروں کی تعداد میں تعینات قبضہ گیرکے مسلح سپاہیوں کی موجودگی میں پاکستانی فوجیوں کے کیمپ پرآزاد بلوچستان کا پرچم بلند کردیا،کون کہہ سکتا تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا جب فوجی کیمپوں پہ بھی بلوچستان کے جھنڈے لہرائینگے لیکن یہ آپ کی شہادت کے بعد ممکن ہوا۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ قوم میں زندگی کی ایسی حرارت پیدا ہوچکی ہے جسے بجھانا کسی کی پہنچ میں نہیں۔
بلوچستان بھر میں ایک جانب عوامی احتجاج جاری تھے تو دوسری جانب بلوچ سرمچاروں ن قوم کے عظیم لیڈر کی شہادت کے بعد قبضہ گیر کی فوجیوں پہ قہر بن کے نازل ہوگئے۔جہاں سرمچاروں نے ریاستی فورسز اور خفیہ اداروں کے سو100) (سے زائد اہلکار ہلاک اور اس
کہیں زیادہ زخمی کیے۔ عوام اور سرمچاروں کے اس عمل سے یہ واضح پیغام مل گیا کہ پارٹی کے عظیم قائد کی شہادت نے ان میں نیا جذبہ اور نئی روح پھونک دی ہے۔عوام نے نہ صرف چھوٹے بڑے شہروں میں ریاستی تنصیبات اور دفاتر جلال کر خاکستر کردیے بلکہ اس کے بعد کسی سکول میں پاکستان کا نہ جھنڈا دکھائی دیا اور نہ ہی اس غیر فطری ریاست کا ترانہ کسی نے سنا۔
آپکی شہادت نے انقلابی کاروان اور آزادی کی جنگ میں روح پھونک دی اور کاروان میں جوق در جوق نظریاتی و شعوری ساتھیوں نے شمولیت اختیارکی۔
شہید غلام محمد کی زندگی کھلی کتاب کی مانند ہے۔آپ ایک بہترین لیڈر اور غضب کے مقرر تھے آپکے تقاریر اور تربیت نے قوم کو بیدار کیا اور غلامی کے احساس کو اجاگر کیا آپ کے مند جلسے کے وہ تاریخی الفاظ تاریخ کے انمٹ نقش ہیں جہاں آپ نے کہا کہ ”اگرآج میں ڈاکٹر خالد جان،کی قبرکی زیارت و شہادت پر فخرکرتا ہوں، انہیں سرخ سلام پیش کرتا ہوں توجس راستے پر وہ چلے ہم کیوں اس راستے پر چلنے سے گھبراتے ہیں،ہم خود شہادت کو قبول کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں!” اور بلآخر آپ اپنے الفاظ کے ترجمان بھی خود بنے جہاں آپ منزل آزادی کیلئے بے خوف و خطر عملی میدان میں سرگرم رہے اور اسی بے خوفی کی حالت میں آپ نے قوم اور وطن کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دیا۔
آج ہم بلوچ قومی تحریک کو دیکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں شہیدغلام محمدبلوچ کی شہادت نے بلوچ قومی تحریک کو اپنے لہو سے اس قدر سیراب کیا جس کی زرخیزی آگ کے طوفان بھی ختم نہیں سکتے۔شہید غلام محمد بلوچ کی شہادت کے بعد تحریک میں موجود کارکنان جن کی تربیت شہید غلام محمدبلوچ نے بلواسطہ یا بلاواسطہ کیا تھا وہ ان قومی ذمہ داریوں کو فرض سمجھ کر تحریک کو منزل کی جانب لے کے رواں ہوئے۔
شہید غلام محمد بلوچ کی شہادت کے بعد بھی آپ شہید کی ہردلعزیزی ختم نہیں ہوئی بلکہ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے وحشیانہ فعل قرار دیا۔ آپ چیئرمین شہید واحد بلوچ لیڈرہے جس کی غائبانہ نماز جنازہ خانہ کعبہ میں حرم کے پیش امام کی امامت میں ادا کیا گیا۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے قرارداد منظور کرکے پاکستانی ریاست سے اس سفاکانہ قتل وشہادت کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کردیا۔

Share This Article
Leave a Comment