انسان اس وقت عظیم منصب پر فائز ہوتا ہے جب اس کا دل ظلمتوں کے ماروں کے ساتھ دھڑکتا رہے۔
ماما قدیر کی لازوال جدوجہد کسی ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ یہ برسوں پر محیط وہ داستان ہے جو لہو سے لکھی گئی، آنسوؤں سے سینچی گئی اور استقامت و مزاحمت کی لو سے امر ہوئی۔ ماما قدیر کی کم و بیش دو عشروں کی جہدِ مسلسل دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ماما ایک عہد کا نام ہے۔ ان کی آنکھوں میں ایک سوال تھا، ایسا سوال جو خاموشی میں بھی گونج بن جاتا تھا۔
استعمار نے ان سے ان کا بیٹا، ان کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا، مگر اسی کرب نے انہیں خود سے روشناس کرایا۔ جلیل ریکی کی شہادت کے بعد وہ محض ایک باپ نہ رہے، بلکہ پوری قوم کے لیے سایہ بن گئے۔ ایسا سایہ جو اپنا دکھ بھلا کر اجتماعی درد کا مداوا کرنے نکلا اور انسانیت کا علم تھامے سولہ برس تک سڑکوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔
ماما قدیر کے لختِ جگر اور بلوچستان ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) کے مرکزی رہنما جلیل ریکی کا ریاستی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا۔ بلوچستان میں پاکستانی ریاستی جارحیت کی ایسی مثالیں ہر نکڑ پر ملتی ہیں۔ مگر اس دن فرق صرف یہ تھا کہ اس اغوا نے ایک عام انسان کو تاریخ کے مرکزی دائرے میں لا کھڑا کیا۔
جلیل ریکی کا ریاستی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا، ازاں بعد ان کی مسخ شدہ لاش ماما قدیر کے لیے قیامت سے کم نہ تھا کہ ایک لمحے میں ہی ان کی دنیا اجڑ گئی، جو خواب انہوں نے دیکھے تھے وہ چھن گئے، ان کے بڑھاپے کا عصا نہیں رہا۔ عفریت کے دیو نے جلیل ریکی کو نگل لیا تھا۔
بیٹے کے اغوا کے بعد ماما قدیر نے ریاست کا ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ سڑکوں پر احتجاج کیا، عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے ان کی ایڑیاں گھس گئیں، مگر ہر جگہ بے حسی، خاموشی اور انکار نے ان کا استقبال کیا۔ بالآخر وہ دن بھی آ پہنچا جب قابض قوت نے انصاف کے نام پر جلیل ریکی کی مسخ شدہ لاش انہیں تحفے میں دی۔ جلیل کا جسم ظلم کی ایک مکمل داستان تھا، اور اس کی لاش ایک واضح پیغام۔۔۔ کہ قدیر بلوچ، ہم اس سے بڑھ کر ایک بلوچ کو کچھ نہیں دے سکتے۔
قبضہ گیر نے ماما کو تحفے میں اس کے بیٹے کی لاش تو دے دی، لیکن وہ ماما کی استقامت سے نالا تھا، وہ نہیں جانتاتھا کہ ماما قدیر کے لیے جلیل کی مسخ شدہ لاش محض ایک لاش نہ تھی، اس میں ہزاروں داستان پوشیدہ تھے اور وہ مزاحمت کا طوفان بننے والا تھا۔ پھر ماما کی استقامت دنیا نے دیکھ لیا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو دفن ضرور کیا، مگر اس دن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے خوف کو بھی منوں مٹی تلے دفن کر دیا۔ بوڑھاپے کا عصا چھن جانے کے بعد ایک باپ کن حالات سے گزرتا ہے، اسے ماپنا یقیناً کارِ گراں ہے۔ گوکہ ایک باپ اپنے بیٹے کی جدائی پر مغموم تھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر آنسوؤں کے پیچھے ایک لاوا بھی ابل رہا تھا اور وہ جان گئے تھے کہ خاموشی اب جرم ہے۔ لہذا ماما نے یہ سب برداشت کیا اور عصا کے چھن جانے کے باجود انہوں نے کمر سیدھی کرلی اور مزاحمت کو اپنا مقصدِ حیات بنالیا۔ اس دوران دنیا نے دیکھ لیا کہ سڑکیں ماما کے مسکن بنے اور آسمان اس کے لیے چھت بنا۔ دورانِ جدوجہد ان کے قدموں نے سینکڑوں نہیں، ہزاروں میل کا فاصلہ طے کیا۔ کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ ستر برس کی عمر میں کوئی ڈھائی ہزار کلومیٹر پیدل چل سکتا ہے؟ یہ سفر زمین پر نہیں، ضمیر میں تھا۔ وہ جنیوا تک سات، آٹھ ہزار کلومیٹر پیدل جانے کے لیے تیار تھے، مگر استعمار نے اجازت نہ دی۔
ماما قدیر ہزاروں لاپتہ افراد کی امیدوں کا گہوارہ بن چکے تھے۔ جہاں جہاں ان کے قدم پڑے، سوال جاگ اٹھے۔ قافلے بنتے گئے، آنکھیں نم ہوتی گئیں۔ کوئی بیٹے کی تصویر اٹھائے، کوئی بھائی کی، کوئی شوہر کی، تو کسی کے ہاتھ میں بیٹی کی تصویر تھی۔
سڑکوں پر چند ایک لواحقین نے پیاروں کے غم میں زندگی کی بازی بھی ہاری۔ مگر ماما کے حوصلوں نے انہیں فولادی قوت بخشی کہ ماما سچ کا علمبردار بنا، ایسا سچ جو دلوں کو چیر دیتا ہے، ایسا سچ جو ایوانوں میں لرزہ طاری کرتا ہے، ایسا سچ جس نے بہروپیوں کا اصل چہرہ بھی اشکار کردیا۔
ظلمتوں کے مارے ہزاروں چہرے دیکھ کر وہ اکثر خاموش رہتے، مگر ان کی خاموشی میں بھی ایسی صدا بلند ہوتی جو چار سُو سنائی دیتی تھی۔ آئے روز کسی لاپتہ کی داستان سُن کر، کسی کی مسخ شدہ لاش کو کندھا دے کر ان کے چہرے کی جھریوں میں تاریخ سمٹی ہوئی تھی، ان کے ہاتھوں میں زخموں کی داستان تھی، ان کے قدموں میں صبر کی گرد جمی ہوئی تھی۔ وہ کسی سیاسی لغت کے محتاج نہ تھے، وہ درد کی زبان بولتے تھے، اور یہ زبان ہر دل سمجھتا ہے۔ ان کے سچ کے سامنے بے حس ریاست تھی جو جارحیت میں شدت تو لارہی تھی پر اسے بھی ماما کا سامنا کرنے کی جرات نہیں تھی کیونکہ وہ کسی ہتھیار سے نہیں، سچ سے لڑ رہے تھے، اور سچ کے سامنے زور آور بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ استعمار اور اس کے حواریوں کے پاس سچ کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔
ماما قدیر کی کم و بیش دوعشروں پر محیط صبر آزما جدوجہد پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ حق و انصاف کا راستہ طویل اور کھٹن ضرور ہے مگر یہی وہ راستہ ہے جس سے استعمار کے قلعوں کو مسمار کیا جاسکتا ہے۔ وہ گرمیوں کی تپش میں بھی برداشت کرتے رہے، موسمِ زمستان کی جسموں کو منجمد کرنے والی سردی میں بھی ان کا حوصلہ بلندیوں کو چھوتا رہا اور بارش اور برف باری میں بھی وہ ثابت قدم رہے۔ چلتے چلتے ان کے پاؤں چھل گئے، وقت کے ساتھ ساتھ ان کا جسم کمزور ہوتا گیا، مگر عزم تھا جسے کسی نے کمزور ہوتے نہیں دیکھا۔ کیوں کہ انہیں بخوبی یہ ادراک تھا کہ اگر وہ رک گئے تو بہت سے سوال دفن ہو جائیں گے، مزاحمت ماند پڑجائیگی، غموں سے نڈھال مائیں مایوسی کے بھنور میں پھنس جائیں گی، اور ان کی آواز خاموش کر دی جائیں گی۔
آہ ماما!
تجھے ہر اس ماں کی آںکھوں سے چھلکنے والے آنسوؤں میں اپنا عکس دکھائی دیتا تھا، جس کے ہاتھوں میں اس کے جوانسال بیٹے کی تصویر ہوتی تھی، تجھے ہر اس باپ کی جھکی ہوئی گردن میں اپنا دکھ نظر آتا تھا جو اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں نڈھال ہوچکا تھا۔ ظلمتوں کے ماروں کا غم اپنا غم سمجھ کر وہ کبھی تنہا نہیں رہے، کہ وہ ایک چلتا پھرتا ضمیر تھے، ایک ایسا آئینہ جس میں فقط سچ کا عکس ہی نظرآتا تھا۔ اور مزاحمت کے اس سفر میں ان کی موجودگی ہی ایک سوال تھی۔ آخر کب تک ظلم کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا؟ آخر کب تک ہمارے پیارے تمہارے ہاتھوں اغوا ہوتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہم اپنوں کی مسخ شدہ لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ آخر کب تک یہ مائیں منتظر رہیں گی؟ اور کب تک یہ قبریں بے نام رہیں گی؟
ظلم کی آماج گاہ میں وقت گزرتا گیا، چہرے بدلتے گئے، حکومتیں آتی جاتی رہیں، جھوٹی تسلیاں دینے کے لیے وعدے وعیظ ہوتے رہیں۔ مگر ماما قدیر کی استقامت قائم رہی۔ ان کی استقامت ایک یاد دہانی تھی کہ شاید انہیں جیتے جی مقصد میں کامیابی نہ ملے مگر انہیں یہ ادراک تھا کہ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا راستہ بن جائے گا جس پر ہمیشہ کارواں چلتے رہیں گے۔ اور پھر وہ دن آیا جب ماما قدیر کی سانسیں تھم گئیں۔ جسم خاموش ہو گیا، مگر ان کی جدوجہد کسی قبر میں دفن نہیں ہوئی، وہ ہر اس ماں کی دعا میں زندہ ہے جو اپنے بیٹے کی راہ تکتی ہے، ہر اس فرد کے سوال میں زندہ ہے جو سچ جاننا چاہتا ہے۔ ماما قدیر آخری سانس تک بلوچ قوم کی آواز بنے رہے، اور ایسی آوازوں کو موت بھی خاموش نہیں کر سکتی۔ گوکہ وہ اب جسمانی طور پر نہیں رہے، مگر فکری طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا کہ وہ فقط ایک فرد نہیں رہے بلکہ مزاحمت کی، صبر کی، اور سچ کی علامت بن چکا ہے جس کا دل ہمیشہ ظلمتوں کے ماروں کے ساتھ دھڑکتا تھا۔