کوئٹہ : وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی کیمپ کو پھر سے نقصان پہنچایا گیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

جبری گمشدگیوں کے خلاف دہائیوں سے جاری وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ میں ایک مرتبہ پھر نقصان پہنچایا گیا ہے۔

وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے وائس چیئر ماما قدیر بلوچ جو گذشتہ دنوں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے تھے 16 سالوں سے مذکورہ کیمپ کو قائم رکھے ہوئے تھے ۔موصوف کے گزر جانے کے بعدوی بی ایم پی کی قیادت و کارکنان اس کے آبائی علاقہ سوراب میں اس کی آکری رسومات کی ادائیگی میں مصروف تھی اور کیمپ تین دن کی سوگ کیلئے بند کیا گیا تھا تو ا س دوران نامعلوم عناصر نے کی جانب سے کیمپ کو ایک بار پھر نقصان پہنچایاگیا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق نامعلوم افراد نے کیمپ کی چھت پر نصب ٹاٹ کو پھاڑ دیا جبکہ کیمپ کوکور کرنے والا سائیڈ کینات کوبھی اٹھا کر لے گئے۔

نصراللہ بلوچ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز کو دبانے کی ایک اور کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی کیمپ طویل عرصے سے پرامن طور پر قائم ہے اور اس طرح کے اقدامات انسانی ہمدردی پر مبنی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، تاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو پرامن احتجاج کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔

ا س سے قبل متعدد بار ماما قدیر کی زندگی میں کیمپ کو نقصان پہنچایا گیا ، انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں تاکہ وی بی ایم پی کا جبری گمشدگیوں اور ماورائے آئین و قانون قتل کے خلاف جاری جہدوجہد کو روکا جاسکے لیکن یہ اقدامات ماما قدیر کے صبر وتحمل اور ہمت و حوصلے کو پست کرنے میں ناکام رہے ۔

Share This Article