بلوچ عورت براہِ راست نشانے پر | عزیز سنگھور

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا المیہ کوئی نیا نہیں، مگر حالیہ برسوں میں جبر نے ایک ایسا خوفناک اور تشویشناک رُخ اختیار کر لیا ہے جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ سماجی اقدار کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ ماضی میں اس جبر کا ہدف زیادہ تر نوجوان بلوچ مرد ہوا کرتے تھے، مگر اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ بلوچ خواتین، جو اس معاشرے میں غیرت، وقار اور حرمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں، بھی براہِ راست نشانے پر آ چکی ہیں۔ یہ تبدیلی محض ایک حکمتِ عملی نہیں بلکہ بلوچ معاشرے کو اجتماعی طور پر توڑنے کی ایک خطرناک کوشش محسوس ہوتی ہے۔

تازہ واقعہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے کرکی تجابان سے سامنے آیا، جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں دو خواتین شامل ہیں، کو حراست میں لینے کے خلاف اہلِ خانہ نے احتجاجاً سی پیک روڈ کو بند کر کے دھرنا دے دیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق، جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد میں فرید اعجاز، ثناء اللہ دلوش، ہانی دلوش اور گل نسا واحد شامل ہیں۔ ان میں سے ہانی دلوش اور گل نسا واحد کو گزشتہ روز بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے حراست میں لیا، جبکہ فرید اعجاز اور ثناء اللہ دلوش کو ضلع کیچ سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

اہلِ خانہ کے مطابق، گل نسا واحد (جسے بعض مقامی ذرائع حیر نسا بھی بتاتے ہیں) کی عمر 17 سال ہے اور وہ فرسٹ ایئر کی طالبہ ہیں۔ وہ اپنی گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران حب چوکی گئی ہوئی تھیں، جہاں سے انہیں حراست میں لیا گیا۔ اسی طرح ہانی دلوش ایک آٹھ ماہ کی حاملہ خاتون ہیں، جنہیں کسی عدالتی وارنٹ یا قانونی کارروائی کے بغیر اٹھایا گیا۔ ایک کم عمر طالبہ اور ایک حاملہ عورت کی گرفتاری نے اس رویے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ حب چوکی بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کا مرکز بنا ہو۔ 18 دسمبر 2025 کو حب چوکی کے علاقے دارو ہوٹل میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر ایک بلوچ خاتون حضرہ بلوچ کو حراست میں لیا، جو ثناء اللہ کی اہلیہ ہیں۔ انہیں دو دن بعد منظرِ عام پر لایا گیا، مگر اس دوران نہ گرفتاری کی قانونی وضاحت دی گئی اور نہ ہی کسی مقدمے کا اندراج سامنے آیا۔

اسی علاقے سے اس سے قبل 22 نومبر 2025 کو پندرہ سالہ نسرین بلوچ کو زبردستی لاپتہ کیا گیا تھا۔ نسرین کے اہلِ خانہ نے 18 دسمبر 2025 کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے گھر پر چھاپہ مار کر نسرین کو اپنے ساتھ لے گئے۔ کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود نہ نسرین کا کوئی سراغ ملا ہے اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے نے اس کی گرفتاری یا مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی ہیں۔

حب چوکی کے یہ واقعات کسی ایک علاقے یا چند خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ بظاہر ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ خضدار سے فرزانہ نامی خاتون کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جبکہ دالبندین سے رحیمہ بلوچ کو اس کے بھائی سمیت گرفتار کیا گیا، مگر تاحال ان کی رہائی یا واپسی کی کوئی اطلاع نہیں۔ اسی طرح ماہ جبین بلوچ، جو ایک بلوچ طالبہ تھیں اور مئی 2025 میں لاپتہ ہوئیں، ان کا معاملہ بھی آج تک ایک حل طلب سوال بنا ہوا ہے۔

ایک پندرہ یا سترہ سالہ لڑکی، ایک گھریلو یا حاملہ خاتون، یا ایک یونیورسٹی کی طالبہ آخر ریاستی سلامتی کے لیے کس طرح خطرہ بن سکتی ہے؟ اگر واقعی کوئی الزام موجود ہے تو آئینِ پاکستان کے تحت قانونی گرفتاری، مقدمے کا اندراج اور عدالت میں پیشی کیوں نہیں کی جاتی؟

بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیاں محض انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ بلوچ معاشرے کی اجتماعی نفسیات پر گہرے زخم چھوڑ رہی ہیں۔ اب بلوچ خواتین صرف اپنے بیٹوں، بھائیوں اور شوہروں کی گمشدگی کا دکھ نہیں سہہ رہیں بلکہ خود کو بھی براہِ راست غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال خوف، بے یقینی اور شدید ذہنی دباؤ کو جنم دے رہی ہے۔

اس سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ادارے ان واقعات پر خاموش ہیں اور عدالتی نظام متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ جبری گمشدگیوں سے متعلق کمیشن ہوں یا بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں، ان تمام موجودہ نظاموں کے باوجود بلوچ خواتین کی بازیابی نہ ہونا ایک سنگین اور شرمناک سوال بن چکا ہے۔

حب چوکی، کیچ، خضدار اور دالبندین سے سامنے آنے والی یہ جبری گمشدگیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے۔ یہ محض چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کے وجود پر لگا ہوا وہ زخم ہے جو وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

اگر ریاست واقعی آئین، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار پر یقین رکھتی ہے تو اسے فوری طور پر لاپتہ بلوچ خواتین کو منظرِ عام پر لانا ہوگا، ان کے اہلِ خانہ کو جواب دینا ہوگا اور جبری گمشدگی جیسے غیر انسانی عمل کو فی الفور ختم کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر یہ خاموشی اور جبر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مستقل اخلاقی اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لے گا۔

***

Share This Article