بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) رہنما اور سابق چیئرمین خلیل بلوچ نےماما قدیر کو ان کی عظیم جدوجہد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماما قدیر بلوچ کی رحلت بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، ماما قدیر محض نعرہ نہیں لگاتے تھے بلکہ مستقل مزاحمت اور سیاسی استقامت کے نمائندہ تھے۔ جبری گمشدگیوں جیسے سنگین ریاستی جرم کو انہوں نے ایک منظم، مسلسل اور قابلِ فخر جدوجہد سے عالمی سطح پر پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ کی سیاست طاقت کے مرکز سے مفاہمت پر نہیں بلکہ مظلوم کی آزادی اور وقار کی بحالی پر قائم تھی۔ انہوں نے انسانی حقوق کو محض بیانیہ نہیں بلکہ لانگ مارچ، دھرنے اور مسلسل موجودگی کے ذریعے عملی جدوجہد بنایا، ان کی جدوجہد نے ثابت کیا کہ قومیں زیرنگین ہونے کے باجود مضبوط موقف اور جہد مسلسل سے ریاستی جبر کو بے نقاب کر سکتا ہے، یہ انہوں نے ثابت کرکے دکھادی۔
خلیل بلوچ نے کہا کہ ماما قدیر کی وفات کے ساتھ ایک فرد نہیں، ایک معیار ہم سے جدا ہوا ہے۔ اب ذمہ داری ان تمام سیاسی و سماجی قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو قومی آزادی، جبری گمشدگیوں کے خاتمے، جوابدہی اور انصاف کی بات کرتی ہیں۔ ماما قدیر بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے قائم کردہ اصولوں جن میں ثابت قدمی، طاقت سے عدم مفاہمت اور مسلسل مزاحمت سرفہرست ہیں، کو سیاسی عمل میں زندہ رکھا جائے۔