ماما قدیر بلوچ راہِ انقلاب کے شہید ہیں ،بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے ماما قدیر بلوچ کو ان کی عظیم جدوجہد پرخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں راہِ انقلاب کاشہید قرار دیدیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جب انسان اپنی تمام زاتی خواہشات، خودنمائی، عیش و حشرت اور زاتی پسند و ناپسند کو بالائے تاخ رکھ کر صرف قومی و انسانی مفادات کو اپنی وجود سے باندھے اور شب و روز اس کے لئے تگ و دو کرے تو ایسے شخصیت کو تاریخی صفوں میں سُرخ رو ہونے سے کوئی بھی طاقت اسے نہیں روک سکتی۔ بلوچ تحریک اور تاریخ نے ایسے شخصیت اپنی کوکھ سے جنم دی ہے کہ جن کو ہمیشہ لازوال مزاحمت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ جب ہم بلوچ مزاحمتکاروں کی تحریکی و تاریخی اوراق کو اُلٹتے ہیں تو ان میں ایسے شخصیت بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں کہ جن کی بے شمار قربانیوں کی وجہ سے قومی جد و جہد کو منزلِ مقصود کے در پر لانے کی جرت و حوصلہ پیدا کیا۔ ان میں ایک کردار ماما قدیر ہیں کہ انہوں نے ایسی نازک وقت پہ بلوچ ہیومین کیپیٹل کو یکجاء کیا جب لوگ وحشی سامراجیت کے ڈر سے نفسا نفسی کے کیفیت میں مبتلا تھے۔ 2009 میں جب ریاست نے بلوچوں کے خلاف Kill and Dump پالیسی اختیار کیا تو ماما قدیر کا بیٹا جلیل ریکی بھی اُن سیاسی ایکٹیوسٹوں میں ایک تھا جو ڈائریکٹ ریاستی بربریت کا شکار ہوا اور اس کا مسخ شدہ لاش ویرانوں پھینک دیا گیا۔ جلیل ریکی اور دوسرے ہزاروں بلوچ فرزندوں کے شہادت اور گمشدگی کے سبب ماما قدیر جیسے بے باک جہدکاروں کا جنم ہوا۔ ان کی عاجزی، مخلصی اور بے باکی نے بلوچ مزاحمت کو ایک نیا رُت دے دیا جو ظالم وقت کی قید و بند سے آزاد ہو چکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماما قدیر اُن بلوچ رہبروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علامتی مزاحمت کا نظریہ بلوچ قومی تحریک میں نہ صرف تخلیق کیا بلکہ ان کے بدولت ایک اجتماعی عمل، قومی بیداری اور نسل در نسل مزاحمت کو بھی جنم دیا۔ اس اجتماعی عمل اور نسل در نسل مزاحمتی یادداشتوں نے سماجی شناخت اور قومی تحریک کو مربوط و مضوظ کرنے میں مدد کیا۔ اسی علامتی مزاحمت نے ریاستی ظلم و بربریت کے وحشت ناک چہرے کو پاش پاش کرتے ہوئے عالمی پیلٹ فارموں میں ایک صدا بلند کی، جسکی وجہ سے آج بلوچ گمشدگی دنیا کے مہذب ملکوں میں انسانی بحران، اجمتاعیت اور انسانیت سوز عمل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اپنے اس بے باک، باوقار اور جہدِ مسلسلِ کے بدولت ماما قدیر، بلوچ تاریخ میں اس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں ماما ایک نام سے بڑھ کر ایک کردار اور عہد سے جانے جاتے ہیں۔ ایک ایسا کردار جو مخلصی، حوصلہ، عاجزی اور مزاحمت کے اوراق میں امر ہو چکے ہیں۔

Share This Article