بلوچستان میں دہائیوں سے جبری گمشدگیوں کے خلاف جہدوجہد اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سرگرم ومتحرک کردار اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے وائس چیئرمین اور معروف انسانی حقوق کے رہنما ماما قدیر بلوچ کی طویل علالت کے بعد وفات پر سیاسی ،سماجی ووکلا تنظیموں نے شدید رنج و غم کااظہار کرکے اسے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
ماما قدیر بلوچ کا انتقال قومی سانحہ ہے، بی ایس او
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ ماما قدیر بلوچ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ وہ ایک عہد، ایک مسلسل جدوجہد اور ان ہزاروں خاندانوں کی امید تھے جن کے پیارے جبری گمشدگی کا شکار بنائے گئے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ صبر و استقامت کی وہ مجسم تصویر تھے جنہوں نے ذاتی المیے کو اجتماعی شعور میں بدل دیا۔ وہ ان گنت مظلوم خاندانوں کے لیے خاموشوں کے وکیل بن کر سامنے آئے اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے ریاستی جبر اور ناانصافی کو بے نقاب کرتے رہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ کے بیٹے کو جب لاپتہ کیا گیا اور بعد ازاں اس کی مسخ شدہ لاش پھینکی گئی تو یہ سانحہ کسی ایک باپ تک محدود نہ رہا۔ اسی اندوہناک واقعے کے بعد ماما قدیر بلوچ نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف اپنے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کے تمام لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک دکھ زدہ باپ پورے خطے کے مظلوموں کی علامت بن گیا۔
مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے طویل احتجاجی مارچ، پُرامن مزاحمت اور غیر متزلزل عزم آنے والی نسلوں کے لیے شعور، حوصلے اور استقامت کا ذریعہ رہیں گے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سچائی اور اخلاقی برتری کے ساتھ کی جانے والی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
بی ایس او سمجھتی ہے کہ ماما قدیر بلوچ جیسے کردار قوموں کے اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کی جدائی بلوچستان کے سماجی و سیاسی شعور کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کا نام لاپتہ افراد کی تحریک کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اپنے تمام کارکنان اور ذمہ داران کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ ماما قدیر بلوچ کی آخری رسومات میں شرکت کریں اور ان کے مشن کی تکمیل کے عزم کی تجدید کریں۔
ماما قدیر بلوچ کی وفات بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے، بی ایس او ایکس کیڈر
بی ایس او ایکس کیڈر کے مرکزی ترجمان نے بلوچ قومی جہد اور بلوچ مسنگ پرسنز کے روحِ رواں، عظیم اور ثابت قدم رہنما ماما قدیر بلوچ کی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماما قدیر بلوچ کی وفات بلوچ قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدوجہد، استقامت اور بے مثال قربانیاں تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ نے جبری گمشدگیوں کے خلاف جس جرات، حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ آواز بلند کی، وہ نہ صرف بلوچ قوم بلکہ دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے سامنے سر جھکانے کے بجائے طویل اور صبر آزما جدوجہد کو اپنایا، جس میں انہوں نے ذاتی دکھوں، تکالیف اور مصائب کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی درد کو اپنی آواز بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ نے بلوچ مسنگ پرسنز کے اہلِ خانہ کے لیے امید، حوصلے اور مزاحمت کی علامت بن کر جدوجہد کی۔ ان کا طویل لانگ مارچ، ان کی پرامن مگر مضبوط مزاحمت اور ان کی مستقل مزاجی اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی اور حق کی راہ میں ثابت قدمی بالآخر تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہے۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریہ تھے، اور نظریات کبھی مرتے نہیں۔
مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ بی ایس او ایکس کیڈر ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہے اور ان کی خدمات پر سُرخ سلام پیش کرتا ہے۔ ہم اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ ان کے مشن، ان کی سوچ اور ان کے خوابوں کو آگے بڑھاتے ہوئے بلوچ قومی جدوجہد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند رکھیں گے۔
آخر میں مرکزی ترجمان نے مرحوم کے اہلِ خانہ، بلوچ مسنگ پرسنز کے تمام لواحقین اور پوری بلوچ قوم سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس او ایکس کیڈر اس غم کی گھڑی میں ان کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
ماما قدیر بلوچ کا انتقال بلوچ عوام اور انسانی حقوق کی جدوجہد کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے،بی ایس او پجار
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کے لیے متحرک معروف رہنما اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا انتقال بلوچ عوام اور انسانی حقوق کی جدوجہد کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ماما قدیر بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے پر ایک توانا، ثابت قدم اور بے باک آواز تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی مظلوموں کے حق میں جدوجہد کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کی قیادت کر کے جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچائی، جو انسانی حقوق کی تحریک میں ایک تاریخی باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے طویل عرصے تک احتجاجی کیمپ کی قیادت کی اور شدید بیماری اور مشکلات کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بی ایس او پجار مرحوم کے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور تمام ہمدردوں کے غم میں برابر کی شریک ہے
ماما قدیر بلوچ کا سیاسی ورثہ بلوچ تحریکِ مزاحمت کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا، بی ایس او
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے ایک جاری کردہ بیان میں بلوچ قومی تحریک کے عظیم اور باہمت رہنما، جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت اور استقامت کے استعارے ماما قدیر بلوچ کی ناگہانی رحلت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک قومی المیہ قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ماما قدیر بلوچ محض ایک فرد نہیں بلکہ ریاستی جبر و بربریت کے خلاف ایک مضبوط ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے ایسے وقت میں مزاحمت کی شمع روشن کی جب بلوچستان کے چپے چپے پر خوف اور خاموشی کے سائے مسلط تھے۔ کوئٹہ سے اسلام آباد تک ان کا طویل اور کٹھن لانگ مارچ، اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے برسوں پر محیط احتجاجی کیمپ، بلوچ تاریخ کے وہ ناقابلِ فراموش ابواب ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے اور جدوجہد کی علامت رہیں گے۔
مرکزی ترجمان کے مطابق ماما قدیر بلوچ نے اپنی پوری زندگی مظلوموں کے آنسو پونچھنے اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا دہائیوں میں بھی پُر ہونا ممکن نہیں، تاہم ان کے افکار، حوصلہ اور غیر متزلزل عزم بلوچ نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں گے۔ وہ ایک ایسی غیر معمولی شخصیت تھے جو ریاستی جبر کے ماحول میں ابھرے اور اپنی مستقل مزاجی اور استقامت سے تاریخ کے دھارے کو موڑتے ہوئے امید کی علامت بن گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ کی بے لوث قومی خدمات، سیاسی بصیرت اور جبر کے خلاف ان کی غیر متزلزل جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے دو روزہ تنظیمی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران تنظیم کی تمام سیاسی و تنظیمی سرگرمیاں معطل رہیں گی، جبکہ جلد ہی تمام زونز میں تعزیتی ریفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں ماما قدیر بلوچ کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے افکار کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ ماما قدیر بلوچ کی وفات نے بلوچ قوم کو سوگوار ضرور کیا ہے، لیکن ان کا سیاسی ورثہ، مزاحمتی فکر اور جدوجہد کی روشنی حق و باطل کی اس جدوجہد میں بلوچ تحریک کو مزید توانائی اور استقامت فراہم کرتی رہے گی۔
ماما قدیر بلوچ محکوم قوموں کی توانا آواز تھے، لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے ان کی جدوجہد قابل قدر ہے، بلوچستان بار کونسل
بلوچستان بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کو شاندار الفاظوں میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماما قدیر محکوم قوموں کی توانا آواز تھے، مرحوم نے مسنگ پرسنز کے بازیابی کیلئے طویل پرامن جدوجہد کی ان کی جمہوری جدوجہد قابل قدر ہے، بلوچستان بار کونسل ماما قدیر بلوچ کے ناگہانی موت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔
تربت سول سوسائٹی کا ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار، عہد ساز جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش
تربت سول سوسائٹی نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین اور معروف انسانی حقوق کے رہنما ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بلوچستان اور انسانی حقوق کی جدوجہد کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔
تربت سول سوسائٹی کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ محض ایک فرد نہیں بلکہ جبری گمشدگیوں کے خلاف مزاحمت، استقامت اور حوصلے کی علامت تھے۔ انہوں نے اپنی ذاتی تکالیف کو اجتماعی جدوجہد میں تبدیل کر کے لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز نہ صرف بلوچستان بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کی۔
بیان میں کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاجی کیمپ جبری گمشدگیوں کے خلاف ایک مستقل اور عہد ساز علامت بن کر ابھرا، جبکہ کوئٹہ سے اسلام آباد تک تاریخی پیدل لانگ مارچ نے ریاستی ایوانوں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تربت سول سوسائٹی کے مطابق یہ جدوجہد بلوچ تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
تعزیتی بیان میں مزید کہا گیا کہ ماما قدیر بلوچ نے شدید بیماری، دباؤ اور مشکلات کے باوجود اصولی مؤقف سے کبھی پسپائی اختیار نہیں کی اور آخری دم تک مظلوم خاندانوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کا نام انسانی حقوق کی تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
تربت سول سوسائٹی نے مرحوم کے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور تمام لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔