کوئٹہ، کچھی اور کیچ میں حملوں کے دوران پاکستانی فوج کے 6 اہلکار ہلاک ہوئے،بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل ایف)کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کوئٹہ، کچھی اور کیچ میں حملوں کے دوران پاکستانی فوج کے 6 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کوئٹہ، کچھی اور کیچ میں تین مختلف حملوں کے دوران قابض پاکستانی فوج کو شدید نقصانات سے دوچار کیا ہے۔

انہوںنے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گزشتہ روز کوئٹہ سے متصل ڈغاری کے علاقے میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو اُس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا، جب وہ ریلوے ٹریک کی کلیئرنس کے بعد مجمع کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں قابض فوج کے چار اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ مزید دو زخمی ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک اور کارروائی میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کچھی کے علاقے ڈھاڈر میں شام کے وقت کلم الدین کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو اُس وقت حملے میں نشانہ بنایا، جب وہ اپنی پوسٹ سے نکلے تھے۔ سرمچاروں نے خودکار ہتھیاروں سمیت راکٹوں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔

بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ شب بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے کیچ کے علاقے سامی، کلگ میں قابض پاکستانی فوج کی پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے قابض فوج کی پوزیشنز پر متعدد راکٹ گولے داغے اور خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ حملے کے نتیجے میں قابض فوج کے دو اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ مزید جانی اور مالی نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article