ماہ زیب بلوچ کو والد کی جبری گمشدگی کے خلاف پریس کانفرنس سے روک دیاگیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رکن ماہ زیب بلوچ کو اپنے والد کی جبری گمشدگی کے خلاف پریس کانفرنس سے روک دیاگیا۔

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں پاکستانی فورسز نے ماہ زیب بلوچ کو والد کی جبری گمشدگی کے خلاف پریس کانفرنس سے روک کر پریس کلب کی تالہ بندی کردی۔

ماہ زیب بلوچ کے مطابق لسبیلہ پریس کلب پر تالہ بندی کرکے پولیس تعینات کردی گئی ہے، تاکہ ہمیں میری والد کی جبری گمشدگی کے حوالے پریس کانفرنس سے روکا جائے، اور ہمیں دھمکی دی گئی ہے اگر ہم نے سڑک پر پریس کانفرنس کرنے کی کوشش کی تھی تو ہمیں تھری ایم پی اور کے تحت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پریس کلب کے دروازے ہمارے لئے بند کردیئے گئے، ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ہم پریس کانفرنس نہیں کرسکتے۔

ماہ زیب بلوچ نے سوال اٹھا یا کہ پاکستان کے علاوہ کونسی ریاست میں لوگوں کو لاپتہ کیا جاتا ہے جہاں پولیس ایف آئی آر نہیں کاٹتی ، پریس کلب پریس کانفرنس کے لئے بند ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکام کی جانب سے پریس کلب پر تالہ بندی اور پریس کانفرنس سے روکنا صحافت پر ریاستی قدغن اور صحافیوں کی مجبوری کو ظاہر کرتا ہے۔ پریس کانفرنس کا حق آئین کے تحت ہر شہری کا ہے، مگر بلوچ سے یہ حق بھی چھین لیا گیا۔

یاد رہے کہ جبری لاپتہ بلوچ کارکن راشد حسین بلوچ کے بڑے بھائی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ زیب بلوچ کے والد شفیق بلوچ کو کل دوپہر حب چوکی میں انکے سینٹر سے اس وقت لاپتہ کیا گیا جب وہ اپنے کام پر وہاں موجود تھے۔

Share This Article