مغربی افریقی ملک بینن میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

مغربی افریقی ملک بینن میں فوجی اہلکاروں نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صدر پیٹریس طالن کو معزول کر کے اقتدار سنبھال لیا ہے۔

فوجی اہلکاروں کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل تیگری پاسکل فوجی عبوری کونسل کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر طالن کی حکومتی کارکردگی کے باعث یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔

فرانسیسی سفارتخانے کے مطابق دارالحکومت کوٹونو میں صدر کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ فوجی اہلکاروں نے آئین معطل کرنے، زمینی سرحدیں اور فضائی حدود بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

تاہم صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں اور ٹی وی سٹیشن پر قابض فوجی گروہ کو باقاعدہ فوج کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

وزیرِ خارجہ شیگن اجادی باکاری نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’صورتحال قابو میں ہے، فوج کا بڑا حصہ حکومت کے ساتھ ہے اور ہم حالات پر قابو پا رہے ہیں۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے ای ایف پی کے مطابق صدارتی دفتر کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’یہ ایک چھوٹا گروہ ہے جو صرف ٹیلی ویژن پر قابض ہے، شہر اور ملک مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘ بین کے صدر خود اس وقت کہاں موجود ہی اس بارے میں ابھی تفصیلات معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔

کوٹونو کی کئی سڑکوں پر فوجی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات ہے اور راستے بند ہیں۔ بینن کو افریقہ کی نسبتاً مستحکم جمہوریت سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور کپاس کے بڑے پیداواری ملکوں میں اس کا شمار کیا جاتا ہے۔

فرانس اور روس کے سفارتخانوں نے اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور شہریوں کو صدارتی کمپاؤنڈ کے قریب جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

67 برس کے صدر طالن، جنھیں ’کنگ آف کاٹن‘ کہا جاتا ہے سنہ 2016 کے انتخابات میں اقتدار میں آئے تھے۔ وہ اگلے سال اپنی دوسری مدت مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے والے ہیں اور انھوں نے تیسری مدت کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انھوں نے وزیرِ خزانہ روموالڈ واداگنی کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے۔

صدر طالن کو معاشی ترقی کے اقدامات پر سراہا گیا ہے لیکن ان کی حکومت پر اختلافی آوازوں کو دبانے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مرکزی اپوزیشن امیدوار کو سپانسرز کی کمی کے باعث نااہل قرار دیا تھا۔

یہ مبینہ فوجی بغاوت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی پڑوسی ملک گنی بساؤ میں صدر عمرو سسکو ایمبالو کو معزول کیا گیا تھا۔ حالیہ برسوں میں مغربی افریقہ کے کئی ممالک بشمول برکینا فاسو، گنی، مالی اور نائجر میں فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں، جس سے خطے کی سلامتی کے مزید بگڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

بینن میں حالیہ برسوں میں شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور داعش و القاعدہ سے منسلک گروہ جنوبی علاقوں تک پھیل چکے ہیں۔

Share This Article