یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے تیسری علامی جنگ شروع کر دی ہے اور انھیں روکنے کا واحد طریقہ بھرپور فوجی اور معاشی دباؤ ہے۔
بی بی سی کے انٹرنیشنل ایڈیٹر جیریمی بوون کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زیلنسکی کا کہنا تھا، ’میرا ماننا ہے پوٹن یہ [تیسری عالمی جنب] پہلے ہی شروع کر چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کتنے علاقے پر قبضہ کر سکیں گے اور انھیں کیسے روکا جائے… روس دنیا پر ایک مختلف طرز زندگی مسلط کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کی اپنی پسند کی زندگیوں کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا روس کی جانب سے جنگ بندی کے لیے یوکرین سے اس کے مشرقی علاقے ڈونیٹسک کے 20 فیصد حصے اور جنوبی علاقوں کھیرسن اور زاپوریزہیا کے کئی علاقوں کا مطالبہ ایک معقول درخواست نہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں ان کا نتکہ نظر مختلف ہے اور وہ اسے محض زمین کے ٹکروں کے طور پر نہیں دیکھتے۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ اس سے ہماری پوزیشن کمزور ہو گی اور یہ وہاں رہنے والے ہمارے لاکھوں لوگوں کا ساتھ چھوڑ دینے کے مترادف ہو گا۔ ’میرا ماننا ہے کہ یہ ‘انخلاء’ ہمارے معاشرے کو تقسیم کر دے گا۔‘
زیلنسکی اکثر کہتے ہیں کہ یوکرین یہ جیت سکتا ہے، لیکن فتح کیسی ہوگی؟
’مجھے یقین ہے کہ آج پوتن کو روکنا اور انھیں یوکرین پر قبضہ نہ کرنے دینا پوری دنیا کے لیے فتح ہو گی۔ کیونکہ پوٹن صرف یوکرین پر نہیں رکیں گے۔‘