امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افرادکو مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو ہمارے اعداد و شمار پر شک ہے تو ثبوت پیش کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ قلیل عرصے میں 32,000 افراد مارے گئے تھے۔
جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک بہتر معاہدے پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اپنے لیڈروں سے بہت مختلف ہیں۔ ’یہ ایک بہت، بہت، بہت افسوسناک صورتحال ہے۔ مختصر عرصے میں، 32,000 لوگ مارے گئے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی پھانسی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے جا رہے تھے۔ ’وہ ان میں سے کچھ کو کرین سے پھانسی دینے والے تھے، وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے جا رہے تھے، میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے تو آپ کو اس ہی وقت نشانہ بنایا جائے گا۔‘
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے، ’وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔‘
ٹرمپ کی گفتگو کے ردعمل میں ایران نے کہا کہ ’کسی کو ہمارے اعداد و شمار پر شک ہے تو ثبوت پیش کریں۔
عباس عراقچی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے ’اپنے عوام کے تئیں مکمل شفافیت کے اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے، ایران کی حکومت نے پہلے ہی حالیہ دہشت گردی کے آپریشن کے تمام 3117 متاثرین کی ایک جامع فہرست شائع کر چکی ہے جس میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے، ’اگر کسی کو ہمارے اعداد و شمار درستگی پر شک ہے تو براہ کرم ثبوت کے ساتھ بات کریں۔‘