بلوچستان میں کٹھ پتلی حکومت اور پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ نے محکموں پر اپنی کھسیں مزید مضبوط کرتے ہوئے سرکاری اور نجی اساتذہ کیلئے تدریسی لائسنس لینا لازمی قراردیدیا ہے۔
بلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے اعلان کیا ہے کہ 2026سے تمام سرکاری اور پرائیویٹ اساتذہ کے لیے تدریسی لائسنس لینا لازمی ہوگا۔
اساتذہ کو لائسنس حاصل کرنے کے لیے ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا اور صرف پاس ہونے والے ہی تدریسی لائسنس کے اہل ہوں گے۔
عارضی اساتذہ کے کنٹریکٹ میں اضافہ بھی صرف لائسنس یافتہ افراد کے لیے ہوگا، جس سے تعلیمی معیار اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو یقینی بنایا جائے گا۔
ٹیچنگ لائسنس کے ٹیسٹ کی نگرانی پاکستان ایجوکیشن کمیشن کرے گا، جبکہ سمری کی منظوری صوبائی کابینہ سے لی جائے گی۔
محکمہ تعلیم کے افسر اسفندیار خان کاکڑ کی قیادت میں یہ اقدامات اساتذہ کی استعداد بڑھانے اور تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لیے نافذ کیے جا رہے ہیں۔