حوثی باغیوں نے الحدیدہ میں 80 خواتین وبچوں کویرغمال بنا لیا

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے الحدیدہ گورنری کے علاقے الدیھمی میں کم سے کم 80 شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے انہیں یرغمال بنا لیا ہے۔ یرغمال بنائے گئے شہریوں میں بزرگ شہری، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹوںکے مطابق حوثی باغیوںنے الدریھمی میں عام شہریوں کے گھروں میں گھس کر انہیں فوجی بیرکوں میں تبدیل کر دیا اور گھروں کے اندر خندقیںکھود دی ہیں۔

یمنی فوج کے العمالقہ مرکز برائے اطلاعات کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے گھروں میں جن لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر یرغمال بنایا ہے ان میں بچے اور بوڑھے شامل ہیں۔ لڑائی کے باوجود حوثی باغی انہیں گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہے ہں۔

بیان میں کہا گیاہے کہ حوثی باغیوں کی بچھائی بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک شخص اپنے دو بچوں جن کی عمریں 10 اور 12 سال کے درمیان ہیں سمیت ہلاک ہو گیا۔

Share This Article
Leave a Comment