بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیاں تشویشناک ہیں، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی پریس کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگی کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے بلوچستان حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور سیکریٹری جنرل حوران بلوچ نے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ طالبات کا لاپتہ ہونا قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 22 نومبر کی رات حب چوکی کے علاقے دارو خان ہوٹل کے قریب فورسز نے تیرتاج کے رہائشی دلاور بلوچ کی 15 سالہ بیٹی نسرینہ بلوچ کو گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا، جس کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

لواحقین کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے اب تک نہ کوئی معلومات فراہم کی گئی ہے اور نہ ہی نسرینہ کو کسی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں مزید بتایا گیا کہ بلوچستان یونیورسٹی کی طالبہ ماہ جبین بلوچ کو 29 مئی کو سول ہسپتال کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود اب تک انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، جبکہ اہلخانہ کو بھی ان کے بارے میں کوئی قانونی تفصیلات نہیں دی جا رہیں۔

نصراللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ خواتین کی جبری گمشدگی آئینِ پاکستان، بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان طالبات پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے اور اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وہ بے قصور ہیں تو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ان کے خاندان شدید ذہنی اذیت سے نجات پا سکیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے خبردار کیا کہ اگر بلوچستان حکومت اور اداروں نے معاملے پر مناسب پیش رفت نہ کی تو تنظیم احتجاجی تحریک شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Share This Article