یوکرین اور فرانس کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت فرانس یوکرین کو 100 تک رافیل ایف 4 لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے گا تاکہ کئیو کی مہلک روسی حملوں سے خود کو بچانے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے پیرس کے نزدیک ایک ایئر بیس پر اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانویل میکخواں کے ساتھ اس حوالے سے ایک لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے ہیں۔ انھوں نے اس اقدام کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔
رافیل ایف 4 طیاروں کی فراہمی 2035 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ انٹرسیپٹر ڈرونز کی مشترکہ پیداوار رواں سال ہی شروع کر دی جائے گی۔
اس معاہدے کی مالی تفصیلات پر ابھی کام ہونا باقی ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق فرانس اس کے لیے یورپی یونین کی مالی اعانت حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ منجمد روسی اثاثوں کو استعمال کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ خیال رہے کہ روسی اثاثوں کے استعمال پر یورپی یونین منقسم دکھائی دیتی ہے۔
پیر کے روز زیلنسکی نے میکخواں کے ساتھ مشترکہ بریفنگ کے دوران کہا کہ ’یہ ایک سٹریٹجک معاہدہ ہے جو اگلے سال سے شروع ہو گا اور 10 سال تک جاری رہے گا۔‘
ان کے مطابق یوکرین کو ’انتہائی طاقتور فرانسیسی ریڈارز‘، آٹھ فضائی دفاعی نظام اور دیگر جدید ہتھیار بھی حاصل ہوں گے۔
زیلنسکی نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے جدید نظاموں کے استعمال کا مطلب ہے ’کسی کی زندگی کی حفاظت کرنا… یہ بہت اہم ہے۔‘
میکخواں کا کہنا تھا، ’ہم رافیلز، 100 رافیلز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں – یہ بہت بڑا ہے۔ یوکرینی فوج کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے اسی کی ضرورت ہے۔‘
فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین کو مستقبل میں پیش آنے والی کسی بھی صورتحال کے تیار رہنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔