ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیئے گئے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں انسانی حقوق کے وکیل ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹس کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے کی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہو گئے، سمیع اللہ وزیر نے ہادی علی چٹھہ کی جانب سے وکالت نامہ عدالت میں جمع کروا دیا۔

ایمان مزاری نے استدعاکی کہ انہیں وکیل کرنے کیلئے وقت دیا جائے، جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ ہفتہ کو اپنے وکیل کی پاور آف اٹارنی جمع کروا دیں۔

ایمان مزاری نے مؤقف اپنایا کہ جس اسپیڈ سے کیس چل رہا ہے ہمارے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، ہمیں عدالت فرد جرم پڑھ کر سنا دے، ہمیں سچ بولنے کی سزا دی جارہی ہے۔

جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ عدالت تین مرتبہ فرد جرم پڑھ کر وکلا کی موجودگی میں سنا چکی ہے۔

ہادی علی چٹھہ نے استدعاکی کہ میرے وکیل آگئے ہیں اسٹیٹ کونسل کو ختم کیا جائے، جج افضل مجوکا نے واضح کیا کہ اسٹیٹ کونسل کو ہم نے مقرر نہیں کیا، جس کمیٹی نے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا، وہی اسے ہٹا سکتی ہے۔

ہفتہ کو اسٹیٹ کونسل کے حوالے سے دلائل دے دیں فیصلہ کر لیں گے، عدالت نے ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے جبکہ کیس کی سماعت ہفتہ 8 نومبر تک ملتوی کر دی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کی مقامی عدالت نے متنازع ٹوئٹ کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔

Share This Article