بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے کٹھ پتلی حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں اور مقامی تاجروں اورمحنت کشوں نے گذشتہ 62 روز سے وہاں جاری دھرنے کو ختم کردیا ہے۔
چمن میں اگرچہ احتجاج کا سلسلہ دو ماہ سے زائد کے عرصے سے جاری تھا لیکن جمعرات کو صورتحال اس وقت خراب ہوئی تھی جب مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین نے سرحد کے قریب قرنطینہ مرکز کو جلانے کے علاوہ نادرا کے دفتر کو بھی نذر آتش کیا تھا۔
جمعے کو دوسرے روز بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سرحد کے قریب اور افغانستان کے درمیان شاہراہ پر دھرنا دیا تھا جس کے دوران ایک مرتبہ پھر لیویز فورس کے اہلکاروں سمیت دس افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان زخمیوں میں پانچ عام شہری تھے جو کہ گولی لگنے کے باعث زخمی ہوئے تھے۔
دھرنا کمیٹی کے ترجمان اور تاجر رہنما صادق خان اچکزئی کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 7اور
زخمیوں کی تعداد 30 ہے۔
دوسری جانب چمن میں دھرنا کمیٹی کے ترجمان صادق اچکزئی نے دھرنے کے خاتمے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتی کمیٹی نے تاجروں اور محنت کشوں کے مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجروں اور محنت کشوں کا سب سے بڑا مطالبہ یہ تھا کہ دو مارچ سے قبل جس طرح چمن کے تاجر اور محنت کش روزانہ آمد و رفت کرسکتے تھے اس کو بحال کیا جائے۔
صادق اچکزئی نے بتایا کہ اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے دو مارچ سے قبل والی صورتحال کو بحال کردیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن تاجروں اور محنت کشوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان راہداری ہوگا وہ روزانہ کی بنیاد پر پہلے کی طرح افغانستان جاسکتے ہیں اور واپس آسکتے ہیں۔
صادق اچکزئی کے بقول جمعرات کو سرحد پر کن وجوہات کی باعث حالات کشیدہ ہوئے ان کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تاجر رہنما نے مطابق ان واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے علاوہ زخمی افراد کو معاوضہ دیا جائے گا۔