بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے راجن پور میں پانچ بلوچوں کی پولیس مقابلہ کے نام پر قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان نے اپنے غیر قانونی،غیر انسانی اذیت گاہوں میں مقید پانچ بلوچوں کو قتل کردیا اور انہیں پولیس مقابلے کا نام دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ ریاست کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کو پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے پاکستان کے ٹارچر سیلوں میں اذیت سہہ رہے تھے۔ آج انہیں قتل کرکے ان کی لاشیں پھینک دی گئی ہیں۔ان پانچ افرادمیں سے دوست محمد بگٹی کو آٹھ مہینے قبل کراچی سے، غلام حسین بگٹی کوپانچ ماہ قبل کندھ کوٹ سے، ماسٹر علی بگٹی کو گذشتہ سال چھ نومبرکوراجن پور سے، رمضان بگٹی کو ایک سال قبل ڈیرہ بگٹی کے علاقے پٹ فیڈر سے اورعطا محمد بگٹی ایک سال قبل پنجاب کے شہر بہاولپورسے پاکستانی فورسزنے حراست میں لے کر لاپتہ کیاتھا۔
انہوں نے کہا پاکستان واضح اور وسیع پیمانے پربلوچ نسل کشی اور جنگی جرائم کی ارتکاب کررہاہے، لیکن ذمہ دارعالمی اداروں کی بلوچ بارے قوت گویائی سلب ہوچکی ہے۔ خطے میں مفادات کی جنگ میں عالمی طاقتیں بھی انسانیت کے تحفظ کے ضمن میں اپنے فریضے سے غافل ہوچکے ہیں۔ بلوچ روزانہ کی بنیادقتل ہو رہے ہیں۔ بلوچ کی مال و متاع لوٹے جارہے ہیں۔ ہزاروں بلوچ پاکستان کی اذیت گاہوں ہولناک اذیت سہہ رہے ہیں۔ اس جدیداور قانون کی حکمرانی کی دور میں بلوچ وطن ہولوکاسٹ سے گزررہاہے۔
انہوں نے کہا بلوچ اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اور بلوچ دنیا کا پہلا قوم نہیں جس نے آزادی کی جنگ لڑی ہو بلکہ تاریخ ایسے جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن ایسی مثالیں بمشکل ہی ملتی ہوں کہ ایک قوم کے ہزاروں افراد اس طرح ”غائب“ کئے گئے ہوں یا پوری بستیاں صفحہ ہستی سے مٹادی گئی ہوں۔ مہذب دنیا کی خاموشی ہماری نسل کشی میں روز اضافے کا سبب رہی ہے۔
ترجمان نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جنگی جرائم کا نوٹس لیاجائے کیونکہ ان عالمی ادارو ں کے قیام کا بنیادی مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ جس طرح بلوچ قوم کی نسل کشی میں پاکستان کے جنگی جرائم بڑھ رہے ہیں وہاں ان اداروں پر بھی قرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔