پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ و واسا عبدالرحمن کھیتران نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مابین بلوچستان میں حکومت سازی کے دوران وزارت اعلیٰ کے ڈھائی ڈھائی سال کے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے علاوہ سینیٹ چیئرمین ، اسپیکر قومی اور بلوچستان اسمبلی کی مدت کے حوالے سے بھی معاہدے موجود ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے بارے میں ڈھائی سالہ معاہدہ حقیقت ہے مرکز میں پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان ڈھائی سالہ معاہدہ طے پایا تھالیکن بلوچستان حکومت کے بدلے بلاول کو وزیراعظم بنانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈھائی سال پورے ہونے کے بعد معاہدے کے تحت بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی ۔
وزارت اعلیٰ کے امیدوار سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے امیدوار کون ہوگا اس کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی تا حال ہمیں معلوم نہیںہے کہ امیدوار کون ہوگا۔ مرکزی قیادت جس کو وزیر اعلیٰ نامزد کرے گی ہم اس کے ساتھ ہوں گے، ہماری مخلوط حکومت بہتر طور پربلوچستان میں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائدین نے ڈھائی ڈھائی سال کیلئے وزارت اعلیٰ بلوچستان ، سینیٹ چیئرمین ، اسپیکر قومی و بلوچستان اسمبلی کے علاوہ 2 صوبوں میں گورنر کے عہدے پاکستان پیپلزپارٹی کو صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ملے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان اور صوبہ سندھ کے گورنر کے عہدے ملے پارٹی نے سندھ میں گورنر کا عہدہ اپنی اتحادی پارٹی ایم کیو ایم کو دیا ہے۔
دوسری جانب کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹیسے اس حوالے سے پوچھا گیا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔