بلوچستان کے مکران ہائی کورٹ بار، کیچ بار، گوادر بار اور پنجگور بار ایسوسی ایشنز نے ایک مشترکہ بیان میں بلوچ خواتین کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے اقدام کو انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔
وکلاء تنظیموں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کیچ اور بلوچستان حکومت بلوچستان کی جانب سے پرامن انسانی حقوق کے کارکنوں، خصوصاً بلوچ خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ باعثِ تشویش ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی سرگرمیوں میں مصروف خواتین کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔
مکران بار کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچ خواتین کا اس طرح نشانہ بننا نہ صرف آئینی و قانونی اصولوں کے منافی ہے بلکہ یہ آزادیِ اظہار اور پرامن جدوجہد کے بنیادی حق پر قدغن کے مترادف ہے۔
ذرائع کے مطابق، لاپتہ شبیر بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف تربت میں منعقد ہونے والے جلسے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما کامریڈ سید بی بی اور ناز جان سمیت بلوچ وومن فورم کے سربراہ ڈاکٹر شلی بلوچ کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں جب کہ ان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیے گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے اس اقدام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا یہ طرزِ عمل خواتین کارکنوں کو دبانے اور بلوچ تحریکِ حقوق کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فورتھ شیڈول میں شامل خواتین کے نام فوری طور پر نکالے جائیں اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔