بلوچستان میں اب کتاب بھی جرم بن چکی ہے۔ یہ جملہ بظاہر تلخ لگتا ہے، مگر بلوچستان کے بدلتے سیاسی اور سماجی منظرنامے کو دیکھیں تو یہ ایک حقیقت بن چکا ہے۔ تین اکتوبر 2025 کو کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے اس خوفناک حقیقت پر مہر ثبت کر دی۔ شہر کے ممتاز علمی و ثقافتی مرکز زوار بُک شاپ کو اچانک سیل کر دیا گیا۔ ایک ایسی جگہ جو برسوں سے اہلِ علم، طلبہ اور محققین کے لیے روشنی کی کرن تھی۔
یہ بُک شاپ محض کتابوں کی دکان نہیں تھی، بلکہ براہوئی ادبی روایت کی روح سمجھی جاتی تھی۔ یہاں ہر روز نوجوان طلبہ، شاعر، ادیب، محقق اور عام قاری جمع ہوتے، کتابوں کے گرد فکری گفتگو کرتے اور سچائی کی تلاش میں مکالمہ کرتے تھے۔ یہاں لفظوں کی خوشبو تھی، سوالوں کی حرارت تھی، اور امید کی وہ کرن تھی جو بلوچستان جیسے دبے ہوئے معاشرے میں ذہنوں کو زندہ رکھتی تھی۔
زوار بُک شاپ کے مالک غنی بلوچ براہوئی لٹریچر میں ایم فل اسکالر، مترجم، محقق اور ایک پرامن سماجی کارکن ہیں۔ مگر 25 مئی 2025 کو وہ خود حکومتی جبر کا شکار بن گئے۔ اہلخانہ کے مطابق وہ کوئٹہ سے کراچی جاتے ہوئے خضدار کے قریب لاپتہ کیے گئے۔
سرکاری اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیا، مگر آج تک ان کی موجودگی یا کسی مقدمے کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں ملی۔ نہ کوئی عدالت، نہ کوئی الزام، بس خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
اور اب، جب ان کے اہلخانہ پہلے ہی غم اور اذیت کی کیفیت میں ہیں، کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے ان کے واحد ذریعہ معاش، یعنی کتاب کی دکان پر تالہ لگا دیا۔
یہ سرکاری عمل ایک پیغام ہے۔ بلوچستان میں علم جرم ہے، اور کتاب اس جرم کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
سوال یہ نہیں کہ دکان کیوں بند کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ کتاب سے خوف کیوں؟۔
جبر کی یہ لہر صرف بلوچستان تک محدود نہیں۔ 21 جولائی 2025 کو کراچی کے اردو بازار میں بھی ایک ایسا ہی سانحہ پیش آیا، جب معروف اشاعتی ادارے “علم و ادب” کے ڈائریکٹر چنگیز بلوچ کو دن دیہاڑے اغوا کر لیا گیا۔
یہ واقعہ دوپہر کے وقت پیش آیا، جب 10 کے قریب مسلح اور نقاب پوش افراد “علم و ادب” کے دفتر پر دھاوا بولتے ہیں۔ وہ عمارت کے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیتے ہیں، ریکارڈنگ ضائع کرتے ہیں، اور تیسری منزل پر واقع دفتر میں گھس کر چنگیز بلوچ کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ وہ آج تک لاپتہ ہیں۔
چنگیز بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے ہے۔ وہ ایک ادبی اور ثقافتی شخصیت ہیں جنہوں نے کراچی میں رہ کر علم و ادب کے پلیٹ فارم سے درجنوں علمی و تحقیقی کتابیں شائع کیں۔ یہ ادارہ سن 2016 میں نواز فتح بلوچ نے قائم کیا۔ ایک ایسے شخص نے جو تربت جیسے علمی شہر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس ادارے نے اردو، بلوچی اور دیگر علاقائی زبانوں میں نایاب کتب شائع کرکے نوجوان نسل کو فکری طور پر مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
لیکن یہ ادارہ بھی کئی بار نشانے پر آیا۔ 26 اگست 2022 کو اسی اشاعتی مرکز سے سابق ڈائریکٹر لالا فہیم بلوچ کو اغوا کیا گیا۔ وہ کئی ماہ لاپتہ رہے۔ بازیاب ہونے کے بعد بھی انہیں مسلسل ہراسانی کا سامنا رہا، جس کے باعث انہیں بلوچستان چھوڑ کر بیرونِ ملک پناہ لینا پڑی۔
لالا فہیم کے جانے کے بعد ادارے کی ذمہ داری چنگیز بلوچ نے سنبھالی، اور تین سال بعد وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہو گئے۔
اس مہم کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں جو بھی شخص قلم اٹھائے، جو بھی بولنے یا لکھنے کی جرات کرے، وہ یا تو خاموش کر دیا جائے یا غائب کر دیا جائے۔
زوار بُک شاپ پر لگا تالہ اور چنگیز بلوچ کی گمشدگی ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ایک ایسی پالیسی کی کڑیاں جو کتاب، علم اور سچ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
بلوچستان میں اب بندوق سے نہیں، لفظ سے ڈر لگتا ہے۔
ریاست کو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں پڑھنے والا سوچنے نہ لگے، اور سوچنے والا سوال نہ کرے۔
یہ وہی بلوچستان ہے جہاں کبھی علم و شعور کی روشنی جگمگاتی تھی۔
جہاں مکران سے لیکر قلات تک ادبی محفلیں ہوتی تھیں، شاعری کا رنگ تھا، فکری مباحث تھے۔ آج وہی بلوچستان سنسرشپ، جبر، خوف اور خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔
زوار بُک شاپ کی بندش کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ یہ خیال پر پابندی ہے۔
ایک ایسے شخص کے خلاف انتقامی کارروائی جو پہلے ہی لاپتہ ہے، اس کے اہلخانہ کو سزا دے کر دراصل پورے معاشرے کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر تم سوچو گے، لکھو گے یا پڑھاؤ گے۔ تو تمہارا انجام بھی یہی ہوگا۔
کوئٹہ، جو کبھی علم و شعور کا گہوارہ مانا جاتا تھا، آج وہاں بُک شاپ کو سیل کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ حکومت نے کتاب سے اپنی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
زوار بُک شاپ پر لگا تالہ ایک علامت ہے۔ علم، ادب، اور سچ پر لگائے گئے تالے کی۔
اسی طرح چنگیز بلوچ اور لالا فہیم جیسے اہلِ قلم کی گمشدگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں لفظ کو گولی سے زیادہ خطرناک سمجھا جانے لگا ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کتاب کو ہمیشہ جلایا گیا، مگر وہ کبھی مٹی نہیں۔
کتاب زندہ رہتی ہے۔ کسی لائبریری میں، کسی دل میں، کسی یاد میں، یا کسی خواب میں۔
وہ ہمیشہ واپس آتی ہے، چاہے راکھ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔
زوار بُک شاپ کا دروازہ اگر بند بھی ہو گیا ہے، چنگیز بلوچ اگر آج لاپتہ ہیں، لالا فہیم اگر جلاوطنی میں ہیں۔ پھر بھی الفاظ ابھی زندہ ہیں۔
کیونکہ کتاب کو قید نہیں کیا جا سکتا، وہ ہر اس شخص میں سانس لیتی ہے جو سچ بولنے سے نہیں ڈرتا۔ اور شاید یہی بات طاقتور کو سب سے زیادہ خوفزدہ کرتی ہے۔
***