اسرائیل اور حماس نے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر اس بات کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام مغوی بہت جلد رہا کر دیے جائیں گے اور اسرائیل اپنے فوجیوں کو ایک طے شدہ حد تک واپس بلا لے گا۔ یہ ایک مضبوط، پائیدار، اور دائمی امن کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ تمام فریقوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عرب اور مسلم دنیا، اسرائیل، تمام پڑوسی ممالک اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے لیے ایک عظیم دن ہے اور ہم قطر، مصر، اور ترکی کے ثالثوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ہمارے ساتھ مل کر اس تاریخی اور بے مثال عمل کو ممکن بنایا۔‘

امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد حماس کی جانب سے بھی بیان سامنے آیا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

حماس نے ساتھ ہی صدر ٹرمپ اور شامل ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے پر مجبور کریں۔

حماس کی جانب سے جاری بیان میں انھوں نے قطر، مصر، ترکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ان کی ثالثی کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا ہے۔

حماس نے ساتھ ہی ٹرمپ اور دیگر فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’اسرائیلی قابض حکومت کو معاہدے کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے پر مجبور کریں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’غزہ کے عوام نے بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب تک آزادی، خودمختاری اور حقِ خود ارادیت حاصل نہیں ہو جاتا، ہم اپنے عوام کے قومی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے ایک بیان میں انھوں نے غزہ میں حماس کی قید میں موجود اسرائیلی مغویوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ’خدا کی مدد سے ہم اپنے تمام لوگوں کو گھر واپس لائیں گے۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے نے حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کو ’اسرائیل کے لیے ایک عظیم دن‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ بہت جلد اسرائیلی کابینہ کا اجلاس بلائیں گے تاکہ اس معاہدے کی منظوری دی جا سکے اور ’ہمارے تمام عزیز مغویوں کو گھر واپس لایا جا سکے۔‘

نتن یاہو نے مزید کہا کہ وہ اسرائیلی فوجیوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ’ہمارے مغویوں کی رہائی کے اس مقدس مشن کے لیے بھرپور کوشش کی۔‘

دوسری جانب امن معاہدے پر دستخط خبر سامنے آ نے کے بعد غزہ میں فلسطینیوں نے رات بھر جشن منایا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس کے رہائشی امن معاہدے کے اعلان کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے۔

وائل رضوان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’اللہ کا شکر ہے آج صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو گئی۔ ہے ہم بہت خوش ہیں کہ جنگ رک گئی ہے، یہ ہمارے لیے ایک خوشی کی بات ہے اور ہم اپنے بھائیوں اور اُن سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے خواہ زبانی طور پر ہی سہی، جنگ روکنے اور خونریزی بند کرنے میں کردار ادا کیا۔‘

عبد المجید ربّو نے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ جنگ بندی ہو گئی خونریزی اور قتل ختم ہو گیا۔ ’میں ہی خوش نہیں ہوں پورا غزہ‘ تمام عرب قوم اور پوری دنیا اس جنگ بندی اور خونریزی کے خاتمے پر خوش ہے۔ شکریہ اور اُن سب کے لیے محبت بھرا پیغام جو ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔‘

بدھ اور جمعرات کی درمیانی سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق اس پہلے مرحلے میں حماس کے زیرِ قبضہ تمام یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی فوجیوں کا ایک متفقہ حد یا لائن تک واپسی شامل ہے۔

اس دوران قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کچھ فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور دوسری جانب سے انسانی امداد غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

اسرائیلی حکومت اس منصوبے کی منظوری کے لیے ایک اہم اجلاس بلائے گی جس میں اس پر ووٹنگ ہوگی۔ اگر اسے باضابطہ منظوری مل گئی تو فوری طور پر جنگ بندی نافذ ہو جائے گی اور اسرائیلی فوج متفقہ لائن تک پیچھے ہٹ جائے گی۔

ایک سینئر فلسطینی عہدیدار کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ پہلے پانچ دنوں میں روزانہ 400 امدادی ٹرکوں کے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔

سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر وائٹ ہاؤس عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں کے پیچھے ہٹ جانے میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت لگ سکتا ہے۔

اس کے بعد حماس کے لیے 72 گھنٹے کا وقت شروع ہوگا تاکہ وہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کو رہا کرے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے سی بی ایس کو بتایا کہ توقع ہے کہ پیر تک یرغمالیوں کی رہائی شروع ہو جائے گی تاہم اس بات کا انحصار حماس پر ہے کہ وہ یہ کام پیر سے قبل بھی شروع کر سکتا ہے۔

Share This Article