اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے غزہ کی جانب امدادی سامان لے کر جانے والی فلوٹیلا کولیشن کو آگے بڑھنے سے رکنے کا کہا ہے، اس بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش اُس امریکی منصوبے کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو جنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ہے۔
40 سے زائد کشتیاں ’گلوبل صمود فلوٹیلا یعنی جی ایس ایف‘ کے تحت سفر کر رہی ہیں، جن کے ساتھ ایک اطالوی بحری جنگی جہاز بھی ہے۔
اطالوی حکام نے کہا کہ یہ فریگیٹ یا بحری جنگی جہاز اس وقت رُک جائے گا جب فلوٹیلا غزہ کے ساحل سے 150 بحری میل کے فاصلے پر پہنچ جائے گی۔
بدھ کو اُس مقام پر پہنچنے کے فوراً بعد، جی ایس ایف نے کہا کہ وہ ’ہائی الرٹ‘ پر ہے اور ڈرونز کی سرگرمی بیڑے کے اوپر اور اس کے ارد گرد بڑھ رہی ہیں ’بڑھ رہی ہے۔‘
اطالوی وزیراعظم میلونی نے کہا کہ ’امریکی تجویز نے اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کی ’امید‘ پیدا کی ہے اور یہ ایک ’نازک وقت‘ ہے جسے بہت سے لوگ تباہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیل نے فلوٹیلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی امداد غزہ لے جانے کے بجائے کسی اسرائیلی بندرگاہ پر پہنچائے۔
یہ فلوٹیلا 500 سے زائد افراد پر مشتمل ہے جن میں اطالوی سیاستدان اور سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے علاوہ ایک پاکستانی سابق سینٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔
گزشتہ ہفتے اطالوی وزیرِ دفاع گوئیڈو کروزیٹو نے اس بات کی مذمت کی تھی کہ نامعلوم حملہ آوروں نے رات کے وقت فلوٹیلا پر ڈرون حملہ کیا۔
پوپ لیو چہار دہم نے بھی فلوٹیلا کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہر طرف سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دعا ہے کوئی تشدد نہ ہو اور انسانی جانوں کا احترام کیا جائے اور یہی بات سب سے اہم ہے یہ بہت اہم ہے۔‘
اتوار کو بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے اس تنقید کو رد کیا کہ فلوٹیلا محض ایک تشہیری حربہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اپنی جان کو خطرے میں صرف تشہیر کے لیے نکلے گا۔‘
تاہم اسی فلوٹیلا پر سوار سابق پاکستانی سینٹر مشتاق احمد خان نے 30 ستمبر کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم غزہ کے قریب ہیں اور اب ہمیں دور سے اسرائیلی جہاز اپنی جانب آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ سب سے یہی اپیل ہے جو میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کرتا آیا ہوں کہ اگر آپ غزہ نہیں آ سکتے تو کم از کم تمام دینی و سیاسی جماعتیں اور تمام پاکستانی امریکی سفارت خانے پر امن دھرنا دیں۔‘