دالبندین میں آپریشن میں عسکریت پسند زبیر بلوچ اوراس کا ایک ساتھی ہلاک جبکہ ایک نے ہتھیار ڈالا،سرفراز بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ فورسز نے گزشتہ روز عسکریت پسندوں کے خلاف اہم کارروائی کی، ہم نے چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن میں زبیر نامی شخص اور اس کا ساتھی مارا گیا، اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ زبیر ایک وکیل تھا۔

انہوں نے اپنے دعوے میں مزید بتایا کہ زبیر عرف شاہ جی چینی باشندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتا تھا اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے تخریبی منصوبہ بندی کرتا تھا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ زبیر عرف شاہ جی دالبندین میں بی ایل اے کے لیے نوجوان بھی بھرتی کرتا تھا، عسکریت پسندوں نے ’ براس ’ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند جہانزیب نے ہتھیار ڈالے اور اس کے دیگر ساتھی ہلاک ہوگئے، جہانزیب نے سرینڈر کیا اور ویڈیو بیان میں مختلف کارروائیوں کا اعتراف کیا۔

واضع رہے کہ فورسز نے گذشتہ روز دالبندین میں ایک گھر پر بھاری ہتھیاروں اور گولہ بارود سے حملہ کرکے بی ایس او پجار کے سابق چیئر مین ، وکیل اور متحرک سیاسی و سماجی کارکن زبیر بلوچ کو ان کے ایک دیگر ساتھی کے ساتھ قتل کردیا جو دالبندین میں اپنے وکالت کی پریکٹس کر رہا تھا۔

ان باتوں کا دعویٰ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کےلیےاقدامات کررہے ہیں، عسکریت پسندوں کےخلاف سخت ترین زمینی اور فضائی آپریشنز جاری ہیں، ریاست کی رٹ کو کسی صورت چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہعسکریت پسند نہتے شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں انہیں کسی صورت رعایت نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو بلوچستان میں ایک پروفیسر کی جانب سے مسلح حملے کا منصوبہ تھا، عسکریت پسند اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، مگر سیکیورٹی فورسز نے ان کے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

انہوں نے کہا کہ میں سیکیورٹی فورسز کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

سر فراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کا امن کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیں گے، نوجوانوں کو انتہاپسند ورغلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہائی ویلیو ٹارگٹ کو پکڑنا فورسز کی اہم کامیابی ہے، فورسز نے عسکریت پسندوں کے کئی منصوبوں کو بروقت ناکام بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں ایک سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوا ۔

واضع رہے کہ بلوچستان کی سیاسی ، سماجی اور وکلا تنظیموں نے نہتے زبیر بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے قتل کو ریاستی فورسز کی جانب سے جاری بلوچ نسل کشی کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔

Share This Article