نظریہ امر ہے | عزیز سنگھور

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان ایک بار پھر لہو لہان ہے۔ 24 ستمبر کی صبح ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مارا، جس دوران فائرنگ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے سابق چیئرمین اور پیشے کے لحاظ سے وکیل ایڈوکیٹ زبیر بلوچ اپنے ساتھی نثار بلوچ کے ہمراہ شہید ہوگئے۔ مگر اس سانحے کی ہولناکی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اداروں نے ان شہیدوں کے جسد خاکی لواحقین کے حوالے کرنے سے بھی انکار کردیا، گویا بلوچ کے زندہ جسم کی طرح ان کے مردہ جسم بھی ریاستی قید اور تحقیر کے نشانے پر ہیں۔

زبیر بلوچ نہ صرف ایک سیاسی کارکن تھے بلکہ ایک قانون دان بھی تھے، جنہوں نے اپنی وکالت کو بلوچ عوام کے حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بنایا۔ وہ بلوچستان کے وسائل اور ساحل پر بلوچ کی حاکمیت کے زبردست داعی تھے۔ ان کا موقف واضح تھا کہ سی پیک اور دیگر میگا پراجیکٹس دراصل قبضہ گیریت کے منصوبے ہیں جو بلوچ عوام کو بے دخل کرنے اور ان کے وسائل پر اجارہ داری قائم کرنے کے لیے لائے جا رہے ہیں۔ ان کا طرزِ سیاست جمہوری اور آئینی تھا۔ وہ جلسوں، سیمیناروں اور عدالتوں کے ذریعے اپنی قوم کا مقدمہ لڑتے رہے۔ یہی وہ کردار تھا جو ریاست کے لیے ناقابلِ برداشت ٹھہرا۔

بلوچستان بار کونسل نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ زبیر بلوچ ایک پُرامن شہری اور وکیل تھے جنہوں نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کردار ادا کیا۔ ان کا قتل نہ صرف بلوچ عوام بلکہ پورے وکلا برادری کے لیے صدمہ ہے۔ بار کونسل نے 25 ستمبر کو صوبے بھر میں عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یہ احتجاج اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ریاست کی گولیاں صرف سیاسی کارکنوں پر نہیں چل رہیں بلکہ قانون کے محافظ بھی محفوظ نہیں رہے۔

نیشنل پارٹی نے واضح کیا کہ زبیر بلوچ کا قتل ایک جمہوری اور سیاسی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے طلبہ سیاست کو نئی جہت دی، لاپتہ افراد کے مسئلے کو اجاگر کیا اور نوجوانوں کو آئین کے مطابق اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے کی ترغیب دی۔ ان کی شہادت نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کردیا ہے کہ کیا پاکستان میں پُرامن اختلاف رائے کی بھی کوئی جگہ ہے؟

بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) نے اس سانحے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا اور کہا کہ زبیر بلوچ ایک انسانی حقوق کے محافظ تھے جنہیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ بی این ایم کے مطابق پاکستان دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے بلوچ تحریک کو ’’فتنہ الہندستان‘‘ قرار دیتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک مقامی اور گہری جمی ہوئی جدوجہد ہے جو وسائل پر اختیار اور شناخت کے تحفظ کے لیے لڑی جا رہی ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) نے کہا کہ زبیر بلوچ کا قتل دراصل بلوچ طلبا تحریک کو کچلنے کی ایک سازش ہے۔ طلبا تنظیموں کو ہمیشہ سے بلوچ قومی شعور اور مزاحمتی سیاست کا سنگِ بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ بی ایس او کے مطابق زبیر بلوچ جیسے رہنما جسمانی طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں مگر ان کے نظریات اور قربانیاں زندہ رہیں گی۔ انہوں نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جس سے اس سانحے کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بلوچستان کی تاریخ ریاستی جبر اور مزاحمتی جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔ زبیر بلوچ کا قتل اس تسلسل کی تازہ ترین کڑی ہے۔ ریاست کی پالیسی واضح ہے: جو آواز وسائل کی لوٹ مار اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اٹھے گی، اسے خاموش کر دیا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا گولیاں نظریات کو مار سکتی ہیں؟ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ایسی قربانیاں تحریکوں کو مٹانے کے بجائے مزید توانا کرتی ہیں۔

یہ حملہ ایک نئی مزاحمتی توانائی کو بھی جنم دیتا ہے۔ زبیر بلوچ نے اپنی زندگی تعلیم، انصاف اور قومی حقوق کے لیے وقف کی تھی۔ ان کی جدوجہد نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا مینار ہے۔ ان کا خون بلوچ طلبا اور عوام کے لیے ایک نئے عہد کی صورت اختیار کرے گا۔

دالبندین میں پیش آنے والا یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان میں اختلافِ رائے اور جمہوری سیاست کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ ریاست اپنی طاقت کے بل بوتے پر پُرامن آوازوں کو خاموش کر رہی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔ زبیر بلوچ اور نثار بلوچ کی شہادتیں بلوچ مزاحمت کو نئی زندگی دیں گی۔

ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بندوق کے سائے میں قومیں نہیں ٹک سکتیں۔ حقوق کی جدوجہد کو دبانے سے وہ اور شدت اختیار کرتی ہے۔ اگر پاکستان واقعی امن اور استحکام چاہتا ہے تو اسے بلوچ عوام کی حقیقی آواز کو تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ زبیر بلوچ جیسے شہید تاریخ کے صفحات پر امر ہوکر آنے والی نسلوں کو جبر کے خلاف کھڑا ہونے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔

***

Share This Article