بلوچستان کے ضلع آواران سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونےوالے 2 نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔جبکہ پنجگور اور کراچی سے 2 جبری لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔
ضلع آواران کے علاقے جھاؤ مجد پیر کراس سے فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ دو بلوچ نوجوانوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں نوجوانوں کو چند روز قبل جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں مقتول نوجوانوں کی شناخت فہیم ولد قاسم اور باقر بلوچ ولد اللہ بخش کے ناموں سے ہوئی ہے، جو آپس میں رشتہ دار اور آواران کے علاقے چیدگی کے رہائشی تھے۔
ذرائع کے مطابق فہیم کو 11 ستمبر کو آواران مین بازار سے جبکہ باقر کو 12 ستمبر کو جھاؤ سے فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کیا تھا۔
گزشتہ روز ان دونوں کی تشدد شدہ لاشیں جھاؤ کے مجد پیر کراس پر پھینکی گئیں۔
دوسری جانب کراچی اور پنجگور سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ 2 نوجوان بازیاب ہوگئے۔
کراچی سے رواں سال 25 مئی کو فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ زکریا اسماعیل بازیاب ہوگئے۔
زکریا اسماعیل کی بازیابی آج بروز پیر کو ہوئی ہے۔
اسی طرح پنجگور سے عبدالکریم ولد حاجی حاصل خان بھی ہوگئے۔
عبدالکریم کو فورسز نے 31 جوالائی 2025 کو ناگ واشک سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔جو گذشتہ روز 21 ستمبر کو بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی مثبت عمل ہے، اس سے غم زدہ خاندانوں کی خوشیاں واپس لوٹ آجاتی ہیں، اس لیے ہم اس اقدام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور امید کرتے ہیں، کہ دیگر لاپتہ افراد بھی بازیاب ہونگے۔