پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور کراچی میں جبری لاپتہ بلوچوں کی بازیابی اور بی وائی سی رہنمائوں کی رہائی کیلئے دھرنے قریب 2 مہینوں سے جاری ہیں۔
آج جمعرات کواسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے قریب بلوچ خاندانوں کے دھرنے کو 57 دن ہو گئے۔
اہل خانہ نے بلوچستان میں جاری کریک ڈاؤن اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر روشنی ڈالنے کے لیے پریس کلب کی طرف پرامن واک کیا اور اپنے پیاروں کی بازیابی و گرفتار بی وائی سی رہنمائوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بلوچوں کے لیے احتجاج اور آزادی سے بات کرنے کا حق ایک دور کا خواب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پُر امن واک کے دوران پولیس نے ہمیں پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے سے روکا، جہاں ہر شہری کو احتجاج کا حق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ جان بوجھ کر ہمارے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت ہمارے اہل خانہ اسلام آباد کی جھلستی سڑکوں پر دھرنا دینے پر مجبور ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ ریاستی جبر ہماری روح کو نہیں توڑ سکتا۔ ہم انصاف کی فراہمی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب کراچی میں گزشتہ منگل سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جس نے شہری زندگی کو متاثر کیا ہے، مگر اس موسم کی سختیوں کے باوجود بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف لگایا گیا احتجاجی کیمپ منگل کو اپنے 37 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے مسلسل سراپا احتجاج ہیں اور ان کی فریاد ہے کہ اگر ان کے بیٹوں پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔
اس موقع پر لاپتہ نوجوان زاہد علی بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ایک بے قصور اور بے ضرر نوجوان ہے جو اپنی فیملی کا سہارا بنا ہوا تھا، لیکن آج وہ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زاہد پر کوئی الزام ہے تو آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، نہ کہ ماورائے آئین اور خفیہ طریقوں سے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ آئین و قانون کو بالائے طاق رکھ کر شہریوں کو سزا دے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں سے درجنوں بلوچ نوجوان جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے کے رہائشی شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ یہ تمام نوجوان عام گھریلو پس منظر رکھتے ہیں اور ان کی گمشدگی نے ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ بارش، دھوپ یا کوئی بھی رکاوٹ ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ ان کا واحد مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کو بحفاظت واپس لایا جائے یا اگر ان پر کوئی الزام ہے تو شفاف عدالتی عمل کے ذریعے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔