کراچی میں جبری گمشدگیوں کے خلاج احتجاجی دھرنا جاری ، ایک نوجوان بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف لگایا گیا احتجاجی کیمپ منگل کو اپنے 36 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

بارش کے باوجود خواتین، بچے اور بزرگ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔

جبکہ کراچی سے 19 اگست کو لاپتہ کیے گئے سلمان ولد شاھداد ساکن پروم ضلع پنجگور بازیابی کے بعد گھر پہنچ گئے۔

سلمان ولد شاھداد کی بازیابی کی تصدیق خاندانی ذرائع نے کی ہے۔

اس موقع پر لاپتہ نوجوان زاہد علی بلوچ کے والد عبدالحمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا ایک محنت کش اور بے ضرر نوجوان ہے جو اپنی فیملی کا سہارا بنا ہوا تھا، مگر آج وہ ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ اگر اُس پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی کو ماورائے آئین سزا دینے کا حق نہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں سے متعدد بلوچ نوجوان جبری طور پر لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں ماری پور اور لال بکھر ہاکس بے کے رہائشی شیراز بلوچ، سیلان بلوچ، سرفراز بلوچ، رمیز بلوچ، رحیم بخش بلوچ اور رحمان بلوچ شامل ہیں۔ یہ تمام نوجوان عام گھریلو پس منظر رکھتے ہیں، مگر ان کی گمشدگی نے ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

لواحقین کے مطابق جبری گمشدگی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے معاشرتی اور معاشی اثرات بھی تباہ کن ہیں۔ گھروں کے کفیل نوجوانوں کی غیر موجودگی میں خاندانوں کو دو وقت کی روٹی کے لیے ترسنا پڑ رہا ہے۔ کئی مائیں اپنے بیٹوں کی جدائی کے صدمے میں بیمار ہو چکی ہیں،

Share This Article