کوئٹہ سے فورسز ہاتھوں ایک شخص جبری لاپتہ ، ایک لاپتہ وکیل بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔جبکہ فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ایک نوجوان وکیل بازیاب ہوگیا ہے۔

فورسز کوئٹہ سے زہری کے رہائشی عنایت اللہ نامی شخص کو حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے، جس کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آ سکے ہیں۔

جبری گمشدگی کے شکار نوجوان کے بڑے بھائی عزت اللہ نے واقعے کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے چھوٹے بھائی عنایت اللہ زہری کو 27 اگست کی رات تقریباً گیارہ بجے، گیس کالونی سریاب کسٹم کوئٹہ سے وردی میں ملبوس فورسز کے اہلکار حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔

عزت اللہ کے مطابق فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ان کا چھوٹا بھائی تاحال لاپتہ ہے۔

عزت اللہ نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی کو اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا سامنا کر چکا تھا، تاہم وہ بعد ازاں بازیاب ہو گئے تھے۔

عزت اللہ نے سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کریں اور ان کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔

دوسری جانب فورسز کے ہاتھوں لاپتہ نوجوان بازیاب ہوگیا ہے۔

کوئٹہ سے فورسز کے ہاتھوں حراست بعد ازاں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے ایڈوکیٹ حکیم بلوچ بازیاب ہوگئے ہیں۔

گذشتہ ماہ 23 جولائی کو بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے پاکستانی فورسز نے نوجوان وکیل حکیم بلوچ کو جبری گمشدگی کا شکار بناکر نامعلوم مقام منتقل کردیا تھا۔

ان کی گمشدگی کے خلاف سماجی حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا برادری کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا، تاہم وہ آج بازیاب ہوگئے ہیں۔

Share This Article