پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچوں کی جبری گمشدگی ک خاتمے اور بی وائی سی کے اسیررہنمائوں کی رہائی کیلئے اسلام آباد اور کراچی میں 25 اور 45 دنوں سے بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔
آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے پرامن دھرنے کو 45 دن مکمل ہو گئے ہیں، جس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنماؤں کی فوری اور محفوظ رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چھ ہفتوں سے زیادہ عرصے سے ماؤں، بیٹیوں، بچوں اور بزرگوں نے سخت موسم، ریاستی بے حسی اور اقتدار میں رہنے والوں کی خاموشی کو برداشت کیا ہے۔ نہ حکومت اور نہ ہی مین سٹریم میڈیا میں انصاف کے لیے ان کی فریاد سننے کی ہمت ہے۔
اس کے باوجود، ترک کرنے اور نظر انداز کرنے کے باوجود، خاندان غیر متزلزل رہتے ہیں۔
دوسری جانب کراچی میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی سلسلہ اپنے 25 ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
کراچی پریس کلب کے باہر لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں مائیں، بہنیں اور بزرگ شریک ہیں جو اپنے لاپتہ پیاروں کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھائے انصاف کے مطالبے کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ جب تک ان کے پیاروں کو بازیاب نہیں کیا جاتا احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
زاہد بلوچ کے والد حمید بلوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے بیٹے کو کسی عدالتی حکم یا قانونی نوٹس کے بغیر زبردستی اٹھایا گیا ہے۔ "اگر ان پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں شواہد کے ساتھ پیش کیا جائے۔ عدالتوں کو نظر انداز کرنا انصاف کا قتل اور آئین کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
لاپتہ نوجوان سرفراز بلوچ کے اہلخانہ کے مطابق 26 فروری 2025 کو انہیں دن تقریباً 10 بجے برانی اسپتال بولٹن مارکیٹ کے قریب جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں۔ اہلخانہ نے ایف آئی آر بھی نامعلوم افراد کے خلاف درج کرائی، پریس کانفرنس بھی کی اور سوشل میڈیا پر مسلسل آواز بلند کی، لیکن تاحال کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی۔
سرفراز بلوچ کی والدہ بی بی گلشن بلوچ احتجاجی کیمپ میں طبیعت کی ناسازی کے باعث شریک نہیں ہو سکیں۔ اہلخانہ نے بتایا کہ ان کی والدہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کا شکار ہیں اور ان کی حالت دن بہ دن بگڑ رہی ہے۔ سرفراز بلوچ محنت مزدوری کے ساتھ گھر کا واحد کفیل تھے اور ان کی گمشدگی کے بعد خاندان سخت معاشی اور سماجی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔
ماری پور کے علاقے سنگھور پاڑہ سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی شیراز اور سیلان بلوچ کے لواحقین نے الزام عائد کیا کہ 23 مئی کو مبینہ طور پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے گھر پر چھاپہ مار کر دونوں نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، تاہم اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان کی والدہ اماں سبزی بلوچ کا کہنا تھا کہ "میرے دونوں بیٹے بے گناہ ہیں، ان کی گمشدگی نے گھر کو اجاڑ دیا ہے، ہم شدید ذہنی اور مالی اذیت میں ہیں۔”
احتجاجی کیمپ میں شریک مظاہرین نے مؤقف اپنایا کہ جبری گمشدگیاں نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے المیہ ہیں بلکہ یہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان، وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ فوری نوٹس لیا جائے اور لاپتہ نوجوانوں کو عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔