امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی غزہ میں گذشتہ صبح ہونے والے اسرائیلی حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک ’ڈراؤنا خواب‘ قرار دیا ہے۔
خیال رہے حماس کے زیرِ انتظام محکمہ شہری دفاع نے جنوبی غزہ میں واقع ناصر ہسپتال پر حملے میں 5 صحافیوں سمیت 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیدروس ادھانوم غیبریسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے علاقے میں ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اور سرجیکل یونٹ میں واقع تھا۔
پیر کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس واقعے پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا: ’یہ کب ہوا ہے؟‘
جب ان سے اس حملے پر ردِعمل مانگا گیا تو انھوں نے کہا کہ: ’میں یہ سب نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہمیں یہ سب ختم کرنا ہوگا، یہ ڈراؤنا خواب ہے۔‘
انھوں نے اس موقع پر غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کا معاملہ بھی اُٹھایا اور صورتحال کو ’خراب‘ قرار دیا۔
خیال رہے اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں حملے کی تصدیق کی ہے جہاں ناصر ہسپتال واقع ہے۔
برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اس واقعے پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ: ’عام شہریوں، طبی کارکنان اور صحافیوں کی حفاظت کی جانی چاہیے۔‘
’ہمیں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔‘
فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے غزہ کے ہسپتال پر حملے کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہریوں اور صحافیوں کی ’ہر صورت میں حفاظت کی جانی چاہیے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا کو ان کا کام آزادانہ طور پر کرنے دینا چاہیے تاکہ وہ اس تنازع کی حقیقت کی کوریج کر سکے۔‘
جرمنی کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب ترکی کے ہیڈ آف کمیونیکیشنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے ’ایک بار پھر انسانیت کے خلاف ایک جُرم کیا ہے۔‘