پاکستان کے مرکزی شہر کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے ملیر سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار نوجوان صادق بلوچ کے اہلخانہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج (بروزہفتہ)صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے سی ٹی ڈی، پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے ڈاکوؤں کی طرح ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو کر بزرگوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور صادق بلوچ کو زبردستی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
اہلِ خانہ نے کہا کہ وہ اس وقت شدید بے بسی اور کرب کی حالت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے شہریوں کے بنیادی حقوق پامال کر رہے ہیں اور عدلیہ سمیت کوئی بھی ادارہ انصاف فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق، "ریاست آج ڈاکوؤں اور بدمعاشوں کے ہاتھوں عوام کے گھروں کو اجاڑ رہی ہے۔ اگر عوام اپنی حفاظت کے لیے بندوق نہ اٹھائیں تو ان کے لیے جینے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ صادق بلوچ پر اگر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، لیکن اسے اس طرح جبری طور پر لاپتہ کرنا سراسر ظلم ہے۔
اہلِ خانہ نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ صادق بلوچ کو فی الفور بازیاب کرایا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی عوام اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ انصاف کے حصول کی اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔