پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر بلوچ لاپتہ افراد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی رہائی کے لیے جاری دھرنے کو آج 37 دن مکمل ہو گئے ہیں۔
موسم کی سختیوں، شدید گرمی اور ریاستی دباؤ کے باوجود مظاہرین، جن میں جبری گمشدگیوں کا شکار افراد کے لواحقین شامل ہیں، اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ انصاف، جوابدہی اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے سوا کسی کم پر راضی نہیں ہوں گے۔
ان کے مطابق وہ جانتے ہیں کہ ریاست انہیں تھکانے اور خاموش کرانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن بلوچ عوام کی جدوجہد اور قربانیاں اس سے کہیں زیادہ گہری اور مضبوط ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ ہم نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے، لیکن اپنی آواز کھونے کو تیار نہیں۔ جب تک ہمارے گمشدہ بیٹے، بھائی اور باپ واپس نہیں آتے، ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔
واضح رہے کہ دھرنے میں شریک افراد مسلسل جبری گمشدگیوں اور بلوچ عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
ان کا مطالبہ ہے کہ بی وائی سی کی اسیر قائدین کو فوری طور پر رہا کیا جائے،لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور جبری گمشدگی جیسے غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ کیا جائے۔