اسلام آباد: بلوچ خاندانوں کا دھرنا 33ویں روز بھی جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کا دھرنا آج 33ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

دھرنے میں شریک افراد کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی بازیابی اور لاپتہ افراد سے متعلق مسائل کے حل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

شدید گرمی اور دیگر مشکلات کے باوجود دھرنا جاری ہے جبکہ حالیہ دنوں میں مزید خاندان بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔

دھرنے کو ایک مہینہ مکمل ہونے کے بعد اور چودہ اگست کی مناسبت سے پریس جانے والے راستے پولیس کی جانب سے کھولنے پربلوچ لواحقین پریس کلب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور وہاں اپنا دھرنا جاری رکھا تھا لیکن اب اطلاعات ہیں کہ پولیس نے ایک بار پھر پریس کلب جانے والے راستے بند کردیئے ہیں اور لواحقین کو پریس کلب تک رسائی نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے وہ پھر سے پرانے جگہ "سیکس مرکز روڈ "پر تپتی دھوپ میں اپنا دھرنا جاری رکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ ہر گزرتا دن ہمارے عزم کو مضبوط کرتا ہے۔ ریاستی دباؤ اور ہمیں خاموش کرنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود ہماری آواز مضبوط اور متحد ہے۔ ہم انصاف، سچائی اور احتساب کے اپنے مطالبے میں اٹل کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات بدستور برقرار ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی فوری رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ناقابل برداشت گرمی اور مسلسل ہراساں کرنے کے باوجود اہل خانہ غیر متزلزل عزم کے ساتھ اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے، ریاست نے پناہ دینے سے انکار کر کے، سڑکیں بلاک کر کے، اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی ہے – لیکن ان کی مزاحمت مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

Share This Article