پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بلوچستان سے جبری گمشدگیوں اور بی وائی سی قیادت کی گرفتاریوں کے خلاف بلوچ لواحقین کا دھرنا 31ویں روز بھی جاری رہا۔
بلوچستان سے جبری گمشدگیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی غیر قانونی گرفتاریوں کے خلاف اسلام آباد میں جاری بلوچ لواحقین کا احتجاجی دھرنا آج 31ویں روز میں داخل ہو گیا ہے، لیکن تاحال مظاہرین کو پولیس کی جانب سے ہراسانی، رکاوٹوں اور تشدد کا سامنا ہے۔
جمعہ کے روز اسلام آباد پریس کلب کے سامنے “بی وائی سی قیادت کی غیر قانونی حراست اور جبری طور پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی شکایات” کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جانا تھا، تاہم لواحقین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے سیمینار شروع ہونے سے محض چند گھنٹے قبل نہ صرف خواتین اور بچوں پر دھاوا بولا بلکہ ان پر تشدد کرتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کی جانب سے بلوچ لواحقین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور انہیں پریس کلب کے احاطے میں داخل ہونے سے بھی باز رکھا گیا اور خواتین اور بچوں کو زدوکوب کیا گیا اور پولیس کی جانب سے خواتین کے لئے نازیبا زبان استعمال کی گئی۔
لواحقین نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی ہدایت پر اسلام آباد کو ایک قید خانے میں بدل دیا گیا ہے جہاں پرامن احتجاج کرنے والوں کو طاقت کے زور پر خاموش کرایا جا رہا ہے۔
بی وائی سی کی گرفتار رہنما ماہ رنگ بلوچ کی بہن دیہ بلوچ نے اس موقع پر کہا ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے آئے تھے لیکن ہمیں جگہ بدلنے پر مجبور کیا گیا کل 14 اگست کے موقع پر اپنے لوگوں کے لئے راستے کول دیے گئے تھے مگر آج جب ہم پریس کلب آئے تو دوبارہ تمام راستے بند کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہ صرف روکا گیا بلکہ خواتین اور بچوں پر ہاتھ اٹھایا گیا، گالیاں دی گئیں اور اب پولیس کی بھاری نفری یہاں موجود ہے۔
مزید برآں پولیس کی رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود بلوچ لواحقین نے اپنا سیمینار منعقد کیا جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، طلبہ اور جبری لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے گفتگو کی۔
اس سلسلے میں بی وائی سی رہنما سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ کل ہمیں دوبارہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کی اجازت دی گئی۔ ہم نے اسے خوش آئند سمجھا اور یہ خیال کیا کہ شاید اب ہمیں مستقل طور پر وہاں پرامن احتجاج جاری رکھنے کا حق دیا جا رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ یہ اجازت محض 14 اگست کی تقریبات کے باعث انتظامیہ کی اپنی مجبوری تھی، کیونکہ اسی راستے سے آزادی منانے والوں کے قافلے کو گزرنا تھا۔
سمی بلوچ نے کہا کہ جب ریاست یا انتظامیہ کو اپنی ضرورت ہوتی ہے تو راستے کھول دیے جاتے ہیں، لیکن اگلے ہی دن وہی راستے دوبارہ بند کر دیے جاتے ہیں۔آج جب لواحقین نے بند راستے کھولنے کا مطالبہ کیا تو پولیس نے طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو گالیاں دی گئیں، انہیں نوچا گیا اور زخمی کیا گیا۔ یہ سب صرف اس لئے کہ ہم بلوچستان کے مظلوم لوگ ہیں۔ ہمارے ساتھ جو بھی رویہ اپنایا جائے، جو بھی ظلم کیا جائے، کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
اسی طرح بی وائی سی کارکن فوزیہ بلوچ نے کہا کہ اسلام آباد پریس کلب کی طرف مارچ کرتے وقت اسلام آباد پولیس نے بلوچ ماؤں، بہنوں اور معصوم بچوں کو ہراساں کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، گالیاں دیں ۔
انہوں نے کہا کہ آج 31ویں روز جاری احتجاجی دھرنے کے دوران اسلام آباد پولیس نے پُرامن واک میں شریک مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔
ان کے مطابق، پریس کلب کی طرف مارچ کرتے وقت پولیس نے بلوچ ماؤں، بہنوں اور معصوم بچوں کو ہراساں کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، گالیاں دیں اور کھلم کھلا دھمکیاں دیں۔
انھوں نے کہا کہ آئینی حقِ احتجاج اور پُرامن مظاہرے کے باوجود مظاہرین کو ریاستی جبر کا سامنا ہے، اور پچھلے ایک مہینے سے کسی قسم کی شنوائی یا انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ جدوجہد صرف لاپتہ افراد کی بازیابی تک محدود نہیں بلکہ اس جبر اور غلامی کے نظام کے خاتمے کے لیے ہے جو دہائیوں سے بلوچ سرزمین پر مسلط ہے۔
انہوں نے ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ریاستی بربریت کے خلاف آواز بلند کریں اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔