کسی بھی شخص کو 3 مہینے میں حراست میں رکھنے و عدالت میں پیش کرنے کی آرڈیننس برائے نام ہے ، نصر اللہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قائم طویل پرامن احتجاجی کیمپ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 5909 دن مکمل ہوگئے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ رواں سال جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بلوچستان حکومت سے ایک آرڈینس پاس ہوا، جس میں ملکی اداروں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ شق کی بنیاد پر کسی شخص کو بغیر ایف آئی آر کے حراست میں لے سکتے ہیں اور تفتیش کے لیے اس شخص کو تین ماہ، چھ ماہ اور نو ماہ اپنے حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

تو اس دن بلوچستان کے اسمبلی کے فلور پر وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں یہ دعویٰ کیا کہ اب جبری گمشدگیوں کا مسئلہ حل ہوگا، جس کو بھی ملکی ادارے حراست میں لینگے اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، اور زیر حراست شخص کے لواحقین کو معلومات بھی فراہم کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے گی اس کا کام یہ ہوگا کہ حراست میں لیے جانے والا شخص جس ملکی ادارے کے حراست میں ہوگا، تو کمیٹی کو اس تک رسائی دی جائے گی تاکہ کمیٹی کے ممبران جاکے یہ دیکھے کہ دوران حراست شخص کے ساتھ ظلم و زیادتی تو نہیں ہورہی ہے،۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ ارڈینس پاس ہونے بعد اب تک دو سو کے قریب بلوچوں کی جبری گمشدگی کی شکایت تنظیم کو موصوئی ہوئی ہے، جس میں ایک بلوچ طالبہ ماہ جبین بھی شامل ہے، جنہیں آج تک کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیاگیا اور نہ ہی انکے خاندان کو انکے حوالے سے معلومات فراہم کیا جارہا ہے، بلکہ اس دوران سینکڑوں کی تعداد میں جبری لاپتہ بلوچوں کو دوران حراست قتل کی بھی شکایت موصول ہوئی ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب وزیر اعلیٰ صاحب آپ نے اسمبلی کے فلور پر جبری گمشدگیوں کے حل کے حوالے سے جو وعدے کیے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے۔

اس لیے آج ہم آپ کو آپ کے کیے گئے وعدے یاد دلا رہے ہیں اور آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ جبری گمشدگیوں کے حوالے بلوچستان اسمبلی کے فلور پر جو وعدے کیے وہ پورا کرے، جبری لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

لواحقین کو انکے لاپتہ پیاروں کے حوالے سے معلومات فراہم کیا جائے، اور آپ نے جو کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا اسے فوری طور تشکیل دینے کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائیں، اور کمیٹی کی فوری رسائی زیر حراست لوگوں تک یقینی بنائی جائیں، اور ان کے ساتھ ملکی اداروں کے روا رکھے جانے والے سلوک کی اصل حقیقت عوام کے سامنے لائیں جائے۔

Share This Article