کراچی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ طالبعلم زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاجی دھرنا آٹھویں روز میں داخل ہوگئی ہے ۔
لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ لاپتہ طالبعلم زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر قائم احتجاجی کیمپ منگل کو آٹھویں روز میں داخل ہوگیا۔
زاہد بلوچ کے اہل خانہ نے کہا کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو آئین اور قانون کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔
ان کا مؤقف تھا کہ جبری گمشدگیاں کسی بھی خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہوتی ہیں اور یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے کہ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا، جس کے بعد سے ان کے اہل خانہ سراپا احتجاج ہیں۔