پاکستان میں نہ عدلیہ اور نہ ہی میڈیا آزادہے، مگر یوم آزادی کا جشن منایاجارہا ہے، محمود اچکزئی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمودخان اچکزئی نے پارلیمنٹ ہائوس میڈیا گیلری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یوم آزادی کا جشن ایسے حالات میں منایاجارہا ہے کہ نہ پاکستان میں عدلیہ اور نہ ہی میڈیا آزاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسی حکومت جس نے بندوق، زور وزور کی بنیاد پر تحریک انصاف کا مینڈیٹ چھینا ہے اور عدلیہ یہاں تک تقسیم ہوئی کہ اس نے تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھینا اس کے باوجود تحریک انصاف کے امیداروں نے 100سے زائد انتخابی نشانات پر الیکشن لڑکر رات 9بجے تک کلین سویپ کیا ۔ اور پھر اس کے بعد کچھ ہوا تمام پاکستان اس کا گواہ ہے ۔ اسی طرح 9مئی کے کیسز کو بنیاد بناکردہشتگردی کے نام پر پارلیمنٹیرینز کو دس دس سال کی سزا سنائی گئی ہے جن میں مرد عورتیں شامل ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم میڈیا کی توسط سے اس جج صاحب اور تمام عدلیہ کو کہتے ہیں کہ خداکو حاضر وناظر جان کر آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ کہ 9مئی کی دہشتگردی خطرناک تھی یا شہباز شریف اینڈکمپنی کاتمام الیکشن پر حملہ خطرناک تھا۔ 25کرورڑ انسانوں کا مینڈیٹ بندوق ،زروزورکی بنیاد پر چھین کر یہ حکومت کررہے ہیں ۔آج سے ہر گلی محلے میں ہمارا یہ سلوگن ہونا چاہیے کہ گلی گلی میں شور ہے یہ حکومت چور ہے ، جمہوریت زندہ آباد، آمریت مردہ باد، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو ، تحریک انصاف زندہ آباد ۔تحریک تحفظ آئین پاکستان زندہ آباد ۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان اس ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہے اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔ یہاں گھنٹوں گھنٹوں عمران خان سے ملنے ان کے پارٹی کے رہنماء ملاقات کے لیے کھڑے رہتے ہیں اور ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی ۔میری تجویز ہے کہ اسد قیصر صاحب چار ساتھیوں کے ہمراہ جائے سپیکر سے ملاقات کرے اور انہیں بتائے کہ جب تک آپ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دیتے، جیل سپریٹنڈنٹ کو یہاں نہیں بلاتے اور پارلیمنٹ ہائوس کو ایک استحقاق کمیٹی میں تبدیل نہیں کردیتے ہم اس اسمبلی کو چلنے نہیں دینگے۔

مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم سب نے کہا تھاکہ آئینی پاکستان بنائینگے۔ کوئی ادارہ آئینی فریم ورک سے باہر نہ نکلیں ، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوں گی ، مذاکرات ہوں گے تو ایک جمہوری پاکستان کی تشکیل نو کے لیے ہوں گے تمام ججز، جرنیل ،سیاستدان ، دانشور آئیں بیٹھیں اور پاکستان کو جمہوری انداز میں چلانا ہوگا۔

خیبر پشتونخوا میں جاری آپریشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ باجوڑ میں آپریشن شروع کردیا گیا ہے ایک علاقے میں خیمہ بستی بنا دی گئی ہے اور لوگوں کو وہاں لایا گیا ۔ ہم کمزور نہیں لیکن ہم اس ملک کی سالمیت اس کے بچائو کے لیے اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لیے اپنے عوام کو اپنے فوج سے مت لڑائو، اپنے لوگوں کو مارنا کہاں کا انصاف اور انسانیت ہے ۔ جب آپ باجوڑ علاقے پر چڑھ دوڑے گے تو پھروزیرستان ، خیبر خاموش نہیں رہے گا اور سارا علاقہ احتجاج پر نکل آئیگا۔ وہ آپ سے صرف یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں ہمیں دی ہیں ان پر ہمارے بچوں کا حق تسلیم کرلو ، پھر بیشک آپ جسے چاہتے بیچ دیں ۔

انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کو دہشتگرد قرار دے رہے ہیں اور یہی لوگ یہاں سفارت کونسلوں ،پارلیمنٹ اور ہرجگہ پرہماری سیکورٹی پر مامور ہیں۔ہم پاکستانیو کو سچ نہیں بتاتے ، کرنل امام نے خود کہا کہ میں نے 90ہزار انٹرنیشنل لوگوں کو دہشتگردی کی ٹریننگ دی لیکن ان 90ہزار لوگوں کی کوئی لسٹ کوئی معلومات نہیں رکھی گئی ۔

محمود خان اچکزئی نے 11اگست کی محمد علی جناح کی تقریر بھی صحافیوں کوپڑھ کر سنائی ۔

Share This Article