بی وائی سی قائدین کی رہائی و جبری گمشدگیوں کے خلاف اسلام آباد و کراچی میں دھرنے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی قائدین کی رہائی اور بلوچ جبری گمشدگیوں ، ماورائے عدالت قتل کے خلاف اسلام آباد اور کراچی میں دھرنے جاری ہیں ۔

اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے رہنماؤں کی رہائی اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے مطالبات کے لیے بلوچ خاندانوں کا دھرنا آج 26ویں روز میں داخل ہو گیا۔

دھرنے میں شریک افراد، جن میں بزرگ خواتین اور کم سن بچے بھی شامل ہیں، شدید گرمی میں بغیر کسی عارضی پناہ کے سڑک کنارے موجود ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیمپ لگانے کی اجازت نہ دینے کے باعث مظاہرین کھلے آسمان تلے دن اور رات گزار رہے ہیں۔

اسلام آباد پریس کلب جانے والی سڑک بدستور بند ہے، جو ماضی میں متاثرین کو اپنی آواز بلند کرنے کے لیے مہیا کی جانے والی جگہ سمجھی جاتی تھی۔

دوسری جانب لیاری کے علاقے کلری سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ لاپتہ طالبعلم زاہد علی بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر جاری احتجاجی کیمپ اتوار کو چھٹے روز میں داخل ہوگیا۔

زاہد علی کے والد عبد الحمید بلوچ، جو جگر کے عارضے میں مبتلا ہیں، اور والدہ جو طویل عرصے سے صحت کے مسائل کا شکار ہیں، سخت دھوپ میں بغیر ٹینٹ کے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

عبد الحمید بلوچ کا کہنا ہے کہ زاہد دن رات محنت مزدوری کر کے نہ صرف گھر کا خرچ پورا کرتا تھا بلکہ والدین کے علاج معالجے کی ذمہ داری بھی اس کے نازک کندھوں پر تھی۔ انہوں نے کہا کہ "اس شدید گرمی میں ہم اس امید پر بیٹھے ہیں کہ شاید ریاستی اداروں کو ہمارے حال پر رحم آئے اور ہمارا بیٹا بازیاب کردیا جائے۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر شہری کو آزادانہ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے لیکن ریاست نے ہم سے یہ حق چھین لیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، اعلیٰ عدلیہ، میڈیا اور تمام انسان دوست حلقوں سے اپیل کی کہ وہ زاہد علی بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔

یاد رہے کہ زاہد علی بلوچ کو 17 جولائی 2025 کو سیکورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا جس کے بعد سے ان کے خاندان والے سراپا احتجاج ہیں۔

Share This Article