بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ایران وعراق زیارات کیلئے جانے والے زائرین کا راستہ کنٹینر لگا بند کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کی حکومت کی جانب سے بذریعہ سڑک زائرین کے ایران و عراق سفر پر پابندی کے بعد بلوچستان حکومت نے گلستان چیک پوسٹ پر بھاری کنٹینرز لگا کر زائرین کا زمینی راستہ مکمل طور پر بند کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔
اس اقدام پر زائرین، قافلہ سالاران اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان شیعہ کانفرنس اور قافلہ سالاران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ زائرین کا قافلہ حسب روایت کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ سے تفتان بارڈر کی طرف روانہ ہوگا، جہاں سے وہ زیاراتِ مقدسہ کے لیے ایران اور عراق جائیں گے۔
وفاقی پابندی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے علمدار روڈ پر تمام داخلی و خارجی راستوں پر پولیس اور فرنٹیئر کور(ایف سی)کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔
سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے حساس چیک پوسٹوں پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
بلوچستان حکومت کے ذرائع کے مطابق وفاقی احکامات کی روشنی میں ایران و عراق جانے والے زمینی راستوں کو وقتی طور پر بند کیا جا رہا ہے اور زائرین کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری اجازت کے بغیر سفر نہ کریں۔ تاہم زائرین کا موقف ہے کہ وہ مذہبی عقیدت کے تحت زیارات پر جا رہے ہیں اور ان کے راستے بند کرنا آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
زائرین، مذہبی جماعتوں اور عوامی حلقوں نے بلوچستان وزیر داخلہ، وزیر اعلی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور زائرین کو ان کے مذہبی سفر کی اجازت دی جائے۔
واضح رہے کہ ہر سال محرم سے قبل ہزاروں زائرین ایران اور عراق میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے زمینی راستے سے سفر کرتے ہیں، جن میں اکثریت کا انحصار بلوچستان کے تفتان بارڈر پر ہوتا ہے۔
وفاقی حکومت کی پابندی کے باعث اس سال زیارات کا سلسلہ شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔