امریکہ نے ایران کے تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پٹرو کیمیکل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے انڈیا کی 6 کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2018 کے ایک حکم نامہ کے تحت پانچ انڈین شہریوں کے خلاف بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو ایران کے محمد حسین شمخانی کی شپنگ کمپنی کی تجارتی سرگرمیوں میں شریک تھے۔
شمخانی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے ایک اعلی سیاسی مشیر علی شمخانی کے بیٹے ہیں اور بہت بڑی شپنگ کمپنی کے مالک ہیں۔
امریکہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کی گئی تفصیل کے مطابق انڈین کمپنیوں کے نام ’کنچن پولیمرز ، ال کیمکل سولیوشنس، رمنیک لال ایس گوسالیہ اینڈ کمپنی ، گلوبل انڈسٹریل کیمکلز، پرسسٹینٹ پیٹرولیم اور جیو پیٹر ڈائی کیم ہیں۔
بیان کے مطابق یہ کمپنیاں ایرانی پیٹرو کیمیکل درآمد کررہی تھیں جن کی تجارت پر امریکہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
انڈیا کی دو اور کمپنیوں ’اینسا شپ مینیجمنٹ ‘ اور ’شری جی جیمس‘ پر حسین شمخانی نیٹ ورک سے تجارتی روابط رکھنے کے لیے پابندی کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
محمکمہ تجارت اور فارین ایسٹس کنٹرول نے حسین شمخانی کی شپنگ کمپنی کے 50 سے زیادہ بحری جہازوں اور تقریبآ 50 اہلکاروں پر پابندی عائد کی ہے جن میں پانچ انڈین شہری بھی ہیں ۔ ان کے نام محمد رفیق حبیب اللہ ، جیکب کورین ، انل کمار پناکل ، نارین نائر ، پنکج ناگ جی بھائی پٹیل اور الیاس جعفر بتائے گئے ہیں۔
جن انڈین کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ نسبتآ چھوٹی کمپنیاں ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ان کمپنیوں نے 2024-25 میں مجموعی طور پر 221 ملین ڈالر کے پیٹرو کیمکل مصنوعات ایران سے خریدے اور انھیں فروخت کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے تیل کی تجارت کرنے والی کمپنیوں پر یہ پابندیاں ایران کے تیل کی برآمد کے نظام کو مفلوج کرنے کے اقدامات کے طور پر لگائی ہیں۔
امریکی حکومت کی طرف سے عائد کی گئی ان پابندیوں کے تحت امریکی حکام امریکہ میں ان کمپنیوں اور افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ ایران کے زر مبادلہ کا ایک بڑا حصہ تیل کی فروخت سےحاصل ہوتا ہے۔
ایران کی خبر رساں ایجینسیوں کے مطابق ایران کی نیشنل پیٹرو کیمیکل کمپنی کے سربراہ حسن عباس زادہ نے اعلان کیا تھا کہ 2024-25 میں ایران نے 13 ارب ڈالر کے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات برامد کی تھیں۔
ایران سے ہونے و الے 2015 کے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکہ نے ایران سے پٹرول کی تجارت کے سلسلے میں انڈیا کے علاوہ چین، متحدہ عرب امارت ، ترکی اور انڈونیشیا کی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی ہے ۔ امریکی محکمہ تجارت نے ایرانی تیل کی سمگلنگ کے نٹورک کو روکنے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔