ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے اعلان کے بعد پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے۔
گلگت اور سکردو میں مشتعل مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو نذرِ آتش کر دیا، جبکہ متعدد مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں ڈی ایس پی سکردو سمیت کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
سکردو میں ایس پی ہاؤس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک اور دیگر سرکاری عمارتوں پر بھی حملے کیے گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی آنسو گیس ختم ہونے کے بعد مظاہرین نے دفاتر پر دھاوا بول دیا اور کئی گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں۔
نگران حکومت کے ترجمان کے مطابق علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔
کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران شدید فائرنگ اور جھڑپیں ہوئیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق کم از کم نو افراد ہلاک اور 32 سے زائد زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ مظاہرین نے قونصلیٹ کے گیٹ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور شیشے توڑ دیے۔
پولیس اور انتظامیہ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ فائرنگ کس جانب سے ہوئی، تاہم صوبائی حکومت نے واقعے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
متعدد بین الاقوامی ذرائع نے بھی کراچی میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں نو سے بارہ ہلاکتوں کی رپورٹس شامل ہیں۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، خصوصاً شیعہ اکثریتی علاقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
عراق کے شہر بغداد میں بھی مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کے قریب گرین زون پر دھاوا بولنے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔