بلوچستان کے ضلع کیچ، ضلع آواران اور ضلع پنجگور سے پاکستانی فورسز نے 7 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
ناصر آباد میں فورسز کی جانب سے لشکر کشی کے دوران5 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
لاپتہ ہونے والوں میں فیروز ولد داد محمد، صغیر ولد داد محمد، ظریف ولد امین، فدا اور حلال بخش شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مختلف گھروں پر چھاپے مارے گئے جس کے دوران مذکورہ افراد کو لاپتہ کردیا گیا۔
دوسری جانب آج حیرآباد میں بھی گھر گھر چھاپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پاکستانی فورسز نے متعدد گھروں کی تلاشی لی تاہم کسی قسم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی طرح ضلع آواران کے تحصیل مشکے میں فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
ذرائع کے مطابق لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت ساجد نور ولد نور محمد کے نام سے ہوئی ہے جو مشکے کے گاؤں کلر کا رہائشی ہے۔
فوج اور خفیہ اداروں کے کارندوں نے اسے 29 جولائی کو مشکے کے علاقے گجر بازار سے حراست میں لیا جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں۔
اہل خانہ نے نوجوان کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔
دریں اثنا پنجگور چتکان میں نامعلوم گاڑی سواروں نے شاہ جہاں ولد مراد سکنہ مجبور آباد کو گن پوائنٹ پر اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔